جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

نئی موٹر ویز،وزیراعظم نے بڑی خبر سنادی

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے تمام علاقہ جات کو ٹریفک کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 اور 4 لین کی موٹرویز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا ٗ ملک کے طول و عرض میں شاہراتی منصوبہ جات کی تکمیل سے جی ڈی پی میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ہو گا۔وہ بدھ کو یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ملک بھر میں اہم شاہراتی نیٹ ورک کے بارے میں پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں شاہراتی منصوبہ جات کی تکمیل سے جی ڈی پی میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ہو گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید شاہراتی نیٹ ورکس کی تعمیر کیلئے موجودہ حکومت نے ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ شرکاء کو بڑے بڑے شاہراتی منصوبہ جات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل، معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے موجود مختلف طریقہ ہائے کار کی سختی پیروی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بڑی سڑکوں کی تعمیر کیلئے 334 ارب روپے وقف کئے گئے ہیں ٗ گذشتہ حکومتوں کے دوران اس مد میں محض 65 ارب روپے سالانہ مختص کئے جاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی مقدار میں رقم مختص کرنا ہماری توجہ اور دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کو ملک کے مرکزی اور بڑے شہروں کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجہ میں بہت زیادہ اقتصادی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم ترقی یافتہ اور ترقی یافتہ علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق بھی کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تمام صوبوں اور علاقوں کے لوگوں کے مابین یکجہتی کا احساس بھی تقویت پائے گا۔

چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے اجلاس کے شرکاء کو ملک کے طول و عرض میں جاری اہم شاہراتی منصوبوں کے بارے میں پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیاجن میں پنجاب میں گوجرہ۔شورکوٹ موٹروے، شورکوٹ۔خانیوال موٹروے، لاہور۔عبدالحکیم موٹروے، ملتان۔سکھر موٹروے اور لاہور۔سیالکوٹ موٹروے، کے پی کے میں ہکلہ۔ڈی آئی خان ایکسپریس وے، ہزارہ موٹروے، لواری ٹنل، حویلیاں۔تھاکوٹ موٹروے، تخت بائی فلائی اوور اور طورخم۔جلال آباد ایڈیشنل کیرج وے، سندھ میں کراچی۔حیدرآباد موٹروے، لیاری ایکسپریس وے، بلوچستان میں ژوب۔ مغل کوٹ (سی پیک مغربی راہداری)، ہوشاب۔خضدار (مغربی کوریڈور)، قلعہ سیف اﷲ۔ویگم رد (این۔17) اور خضدار۔شاداد کوٹ جبکہ وفاقی دارالحکومت میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کیلئے رابطہ سڑکیں شامل ہیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…