جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے کونسے خطرناک ترین مقام پر ایک پورا سیکٹرجنرل باجوہ کے نام سے منسوب ہے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاک فوج کے نئے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ دہشتگردی کو پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ جنرل باجوہ کی پیشہ وارانہ مہارتیں اور سخت جان ہونا ان کی شہرت کا سبب ہے۔ ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل قمر باجوہ کی بہادری کے تناظر میں جب وہ وہاں تعینات رہے تھے اس وقت سے دنیا کے سب سے خطرناک ترین فوجی مقام سیاچن پر ایک سیکٹران کے نام ’’باجوہ سیکٹر‘‘ سے موسوم ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے پیش رو جنرل راحیل شریف میں ذاتی اور پیشہ وارانہ لحاظ سے کئی باتیں مشترک ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں میں جنرل راحیل ہی کی طرح ’کھلے ڈلے‘ افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور انہی کی طرح فوج کی تربیت اور مہارت میں اضافے کے ہر وقت خواہشمند رہتے ہیں۔
جنرل جاوید قمر باجوہ کے بارے میں ان کے ساتھ ماضی میں کام کرنے والے بعض افسروں کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ کسی بھی وقت کسی بھی موضوع پر بے تکلف گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ خوبی انھیں اپنے ساتھیوں میں مقبول اور ممتاز بناتی ہے۔پاکستانی فوج کے سینیئر افسر عام طور پر اپنے آپ کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھنے کی جستجو میں سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے سے عموماً اپنے قریبی دوستوں کے علاوہ نجی محفلوں میں بھی پرہیز ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن جنرل قمر باجوہ اس معاملے میں مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کر چکے بعض افسروں کا کہنا ہے کہ وہ نا صرف سیاسی معاملات پر پختہ رائے رکھتے ہیں بلکہ اس کا اظہار کرنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ یوں وہ ایک کھلے ڈلے بے تکلف شخص کے طور پر اپنے ملنے والوں کو متاثر کرتے ہیں۔جنرل باجوہ فوری فیصلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنرل راحیل اور جنرل باجوہ کے درمیان یہ قدر بھی مشترک پائی جاتی ہے۔
جنرل راحیل نے شمالی وزیرستان میں کئی برس سے التوا میں پڑے فوجی آپریشن کو شروع کر کے اور 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے موقع پر فیصلہ کن کردار ادا کر کے اس صلاحیت کو منوایا تھا۔جنرل راحیل ہی کی طرح جنرل باجوہ بھی فوج کی تربیت کے معاملات میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں اور گذشتہ سالوں میں انھوں نے اس سلسلے میں فوج کی تربیتی برانچ کے سربراہ کے طور اہم کردار کیا ہے۔جنرل باجوہ پاکستان کی سب سے بڑی 10 کور کی ناصرف کمانڈ کر چکے ہیں حال ہی میں مکمل ہونے والی فوجی مشقوں کو جنرل باجوہ ہی نے ڈیزائن کیا تھا۔
اس کے علاوہ وہ کوئٹہ میں انفینٹری سکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔جنرل باجوہ پاکستان کی سب سے بڑی 10 کور کی ناصرف کمانڈ کر چکے ہیں بلکہ اپنے کیرئیر میں دو مرتبہ اس کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کا تعلق انفینٹری کی بلوچ رجمنٹ اے ہے اور وہ اقوام متحدہ کی امن مشن کے تحت کانگو میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…