اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فوجی افسران کے ہاتھ میں موجود چھڑی کا عسکری لحاظ سے خاص مقام ہوتا ہے اور اس چھڑی کو ’’کمانڈ کین‘‘ یا ’’ملاکہ کین‘‘ کہا جاتا ہے۔ مختلف مواقعوں پر کمانڈ کین ساتھ رکھنے کا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ خاص مواقعوں پر آرمی چیف اور کمانڈرز کیلئے کمانڈ کین ساتھ رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ قومی پرچم کو سلامی دیتے وقت، گارڈ آف آنر لیتے وقت ، پریڈ کا معائنہ کرتے وقت فوجی افسران کے پاس کمانڈ کین ہونا ضروری ہوتی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی صدر مملکت، وزیر اعظم یا اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کے وقت کمانڈ کین باہر رکھی جاتی ہے۔ آرمی چیف اپنے دفتر میں ملاقات کریں تو کمانڈ کین سائیڈ پر رکھ دی جاتی ہے۔ ملاکہ کین فوج کی تمام اہم پوسٹوں پر تعینات افسروں یعنی کور کمانڈرزاور جی اوسی وغیرہ کے یونیفارم کا لازمی حصہ تصور کی جاتی ہے۔ کمانڈ کین شمالی علاقہ جات میں پائی جانیوالی انتہائی اہم لکڑی ’’ملاکہ‘‘ سے بنائی جاتی ہے۔ اسی نسبت سے یہ چھڑی ملاکہ کین بھی کہلاتی ہے۔
فوجی افسران کے پاس’’ چھڑی‘‘ کا کیا مقصد ہوتا ہے اور یہ کس کس افسر کے پاس ہوتی ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ، سعودی عرب کا ردعمل آگیا
-
امانت خان شیرازی
-
ایران کا ابوظبی پر حملہ،یو اے ای نے بھی بڑا اعلان کر دیا
-
1 کروڑ روپے تک کا قرضہ : اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر حیران کن اضافہ
-
امریکا و اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا
-
پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
-
ایرانی میڈیا نے آیت اللہ خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کردیا
-
پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری دیں
-
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان آ گیا
-
ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ، کئی افراد ہلاک
-
خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
-
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ



















































