اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فوجی افسران کے ہاتھ میں موجود چھڑی کا عسکری لحاظ سے خاص مقام ہوتا ہے اور اس چھڑی کو ’’کمانڈ کین‘‘ یا ’’ملاکہ کین‘‘ کہا جاتا ہے۔ مختلف مواقعوں پر کمانڈ کین ساتھ رکھنے کا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ خاص مواقعوں پر آرمی چیف اور کمانڈرز کیلئے کمانڈ کین ساتھ رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ قومی پرچم کو سلامی دیتے وقت، گارڈ آف آنر لیتے وقت ، پریڈ کا معائنہ کرتے وقت فوجی افسران کے پاس کمانڈ کین ہونا ضروری ہوتی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی صدر مملکت، وزیر اعظم یا اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کے وقت کمانڈ کین باہر رکھی جاتی ہے۔ آرمی چیف اپنے دفتر میں ملاقات کریں تو کمانڈ کین سائیڈ پر رکھ دی جاتی ہے۔ ملاکہ کین فوج کی تمام اہم پوسٹوں پر تعینات افسروں یعنی کور کمانڈرزاور جی اوسی وغیرہ کے یونیفارم کا لازمی حصہ تصور کی جاتی ہے۔ کمانڈ کین شمالی علاقہ جات میں پائی جانیوالی انتہائی اہم لکڑی ’’ملاکہ‘‘ سے بنائی جاتی ہے۔ اسی نسبت سے یہ چھڑی ملاکہ کین بھی کہلاتی ہے۔
فوجی افسران کے پاس’’ چھڑی‘‘ کا کیا مقصد ہوتا ہے اور یہ کس کس افسر کے پاس ہوتی ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(تیسرا حصہ)
-
سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق
-
بچی کو 16 کروڑ روپے کا زندگی بچانے والا انجیکشن لگادیا گیا
-
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں بڑی کمی ہوگئی
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا ءسے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شامل کر دیا
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر 15 افراد کی خواجہ سرا سے اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کیس
-
ڈیزل سے لدا پاکستانی جہاز خیرپور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد واپس ہوگیا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ
-
یو اے ای نے پاکستانی و بھارتیوں سمیت متعدد کرکٹرز کو شہریت دیدی
-
شوہر کی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی انٹری پر دولہا اور دلہن فرار
-
بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ناقابل یقین ریکارڈ بنا ڈالا
-
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا



















































