ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف نے مدت ملازمت میں توسیع کیوں نہیں لی ،بالآخروزیردفاع نے حقیقت آشکارکردی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لے کر ایک اچھی روایت کو جنم دیا اس سے پاک فوج کی بحیثیت ادارہ توقیر میں اضافہ ہوا ہے ، ساری دنیا ہماری افواج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا اعتراف کرتی ہے ، بھارت کو ہمارا اندرونی ملکی استحکام ہضم نہیں ہورہا جس وجہ سے وہ سرحدوں پر غیر محفوظ حالات پیدا کر رہا ہے ، سی پیک کی کامیابی کے بعد ہمیں آئی ای ایف سے معاشی سہارا لینے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے حوصلے بلند ہیں ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مقررہ مدت کے ختم ہونے پر مدت ملازمت میں توسیع نہ لے کر ایک اچھی روایت قائم کی ہے اس سے پاک فوج کا مورال مزید بلند ہوا ہے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ساری دنیا ہماری افواج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا اعتراف کرتی ہے ، نئے آرمی چیف کو جنرل راحیل کے ایجنڈے کو لے کر آگے چلنا ہوگا اور اس میں مزید ایڈنگبھی کرنی ہوگی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کی ذاتی صوابدید ہے ، آرمی کی طرف سے نام بتائے جاتے ہیں ، اس معاملے پر وزیراعظم چیف سے مشاورت بھی کرتے ہیں جو انتہائی قیمتی مانی جاتی ہے

۔انہوں نے کہا کہ پچھلے بیس سال میں کوئی جنرل اپنی مقررہ مدت پوری کر کے عزت سے رخصت نہیں ہوا ، جنرل مشرف خود کو خود ہی
ایکسٹینشن دیتا رہا اور بڑی مشکل سے ان سے وردی اتروائی گئی ، جنرل کیانی کو پچھلی حکومت نے ایکسٹینشن دے دی ، جنرل راحیل کا اپنی مدت پوری کر کے عزت سے رخصت ہونا ایک مائل سٹون اور وہ ایک تابندہ روایت کو قائم کر کے جارہے ہیں ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے ملک میں صحت مندانہ روایات جنم لے رہیں ، آرمی چیف کے ایکسٹینشن لینے سے نہ صرف فوج بلکہ حکومت بھی کمپرومائز ہوتی ہے ۔ پانامہ لیکس سے متعلق سوال کے جواب میں وزیردفاع نے کہا کہ پانامہ لیکس عدالت میں ہے اس لئے اس پر کوئی کمنٹ نہیں کروں گا اور سیکیورٹی اجلاس کی نیوزلیکس سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کروں گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…