ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

خواجہ سرائوں پر عمرہ کرنے کی پابندی ۔۔۔ خواجہ سرائوں نے اسلام سے حوالہ مانگ لیا ۔۔ پھر کیا ہوا ؟

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)خواجہ سراؤں نے سعودی عرب کی جانب سے عمرے کی ادائیگی کے لیے ویزے پر پابندی کے فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے قائم تنظیم شی میل فاؤنڈیشن پاکستان کی سربراہ الماس بوبی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن خواجہ سراؤں کے ویزے لگے ہوئے ہیں اب وہ مخمصے میں ہیں کہ آیا وہ اپنا مذہبی فریضہ ادا کرسکیں گے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم اسلام کے پانچ ارکان پہ یقین نہیں کرتے اور پانچواں رکن حج ہے۔ اسلام کی کس کتاب میں، قرآن کی کس شِق میں لکھا ہے کہ خواجہ سرا ء پر پابندی لگائی جائے کہ وہ عمرہ یا حج نہ کرنے آئیں۔سعودی حکام کی جانب سے اس پابندی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی لیکن بعض مبصرین کا اندازہ ہے کہ یہ پابندی خواجہ سراؤں کے درمیان محرم اور نامحرم کی تفریق نہ ہونے کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔مذہبی اسکالر مقصود احمد سلفی کا کہنا تھا کہ اسلامی عبادات میں ان کے لیے مرد وعورت جیسے احکامات ہی ہیں۔ مذہب ان کو اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ عبادات کے لیے مسجد جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں، اگر مرد والا حلیہ بنایا ہوا ہے تو وہ مردوں کے ساتھ نمازپڑھیں گے، حج اور عمرے میں بھی یہی ہے کہ اگر ان کا حلیہ عورتوں والا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ حج وعمرہ کرسکتے ہیں۔خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے دا بلو وینس پروگرام کے معاونِ کار قمر نسیم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسلمان کو اس کے جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی بنیاد پر کسی عبادت سے روکنا بذاتِ خود ایک گناہِ کبیرہ ہے۔قمر نسیم نے بتایا کہ وہ سعودی سفیر کو ایک خط کے ذریعے خواجہ سراؤں کے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…