اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر اڑی حملے کا الزام لگائے جانے کے بعد ہم نے تیاری کر لی تھی اور ہم پوری طرح تیار تھے ۔ ہم آج بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم بھارت سے دبنے والے نہیں ۔ ہم آج بھی بھارت کو ناکو ں چنے چبوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
آئیڈیاز 2016 نمائش کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل کا کہنا تھا کہ ملک میں طیارہ سازی کی صنعت مضبوط ہورہی ہے، دوست ممالک کی مسلح افواج سے باہمی تعلقات مضبوط بنارہے ہیں۔ترکی کے ساتھ طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ ہوگیا ہے، نائیجیریا اور قطر کیلئے سپر مشاق طیارے تیارکررہے ہیں۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ ہماری نظریں سپر مشاق اور جے ایف تھنڈر سے آگے کی طرف ہیں، نائیجریا اور قطر کے ساتھ معاہدہ ہوا اور اب ان کے جہاز پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ایوی ایشن ریسرچ کرکے اس انڈسٹری کو ترقی دیں گے اور موجودہ حالات بھی اسی بات کے متقاضی ہیں کہ کسی اور پر انحصار کرنے کے بجائے خود کفیل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سہیل امان نے کہا کہ بھارت کو حد سے زیادہ تجاوز کرنے پرسخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہم نے جنگ کی تیاریاں مکمل کر لیں تھیں ۔۔۔پاکستان نے بھارت پر کب اور کیوں حملہ کرنا تھا ؟ ایئر چیف مارشل سہیل امان کا تہلکہ خیز انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وراثت
-
11 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان
-
پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیا
-
بینکوں میں بھاری رقوم رکھنے والوں کیلئے بری خبر
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
13سالہ لڑکی سے 5 دن میں 30 افراد کی زیادتی
-
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
-
ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی، نیا مون سون سسٹم آج سے فعال، کئی علاقوں میں الرٹ جاری
-
ممانی کے ساتھ مبینہ تعلقات پر بھانجے نے ماموں کو ہلاک کردیا
-
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں گرنے لگیں
-
سولر پلیٹس کی قیمتوں میں کمی
-
سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا
-
معروف فٹبالر نے اسلام قبول کر لیا
-
میرا بیٹا منت مرادوں کے بعد پیدا ہوا، ظالم نے میری دنیا اجاڑ دی، 6 سالہ ولی کے والد کی دہائی



















































