بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

اگلے تین سالوں میں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ؟ سینئر رہنما نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق مشیر اقتصادی امور اشفاق حسن نے کہا ہے کہ آئندہ تین سالوں میں پاکستان کے غیرملکی قرضوں کا حجم 110 ارب ڈالر ہوجائے گا آئی ایم ایف سے پاکستانی کی جدائی وقتی ہے پاکستان 2018 میں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا رواں مالی سال میں غیر ملکی قرضوں کا حجم 73 ارب ڈالر ہوچکا ہے آئندہ مالی سال قرضوں کا ح بڑھ کر 81.3 ارب ڈالر ہوجائے گا ہفتہ کو اسلام آباد میں قومی قرضہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مشیر اقتصادی امور اشفاق حسن نے کہا کہ مالی سال 2019/20 تک غیرملکی قرضوں کا حجم 110 ارب ڈالر ہوجائے گا رواں مالی سال میں غیر ملکی قرضوں کا حجم 73 ارب ڈالر ہوچکا ہے آئندہ مالی سال قرضوں کا حجم بڑھ کر 81.3 ارب ڈالر ہوجائے گا انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے پاکستانی کی جدائی وقتی ہے پاکستان دوہزار اٹھارہ میں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا پاکستان تحریک انصاف کے رہنمااسد عمر نے کہا کہ پاکستان قرض کے دلدل میں پھنستا جا رہا ہے حکومت پارلیمنٹ کو قرض کے معاملے میں نظر انداز کر رہی ہے ملکی قرضوں میں معیشت کے مجموعی تناسب کی شرح میں 3.3 فیصد مزید اضافہ انتہائی خطرناک ہے قرضوں کا حجم معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے جو قرضہ لیا جا رہا ہے اس کا استعمال ٹھیک طرح سے نہیں ہو رہا انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ٹیکس کا نظام مفلوج ہو چکا ہے،صرف 13 فیصد بلا واسطہ ٹیکس حاصل کیا جاتا ہے ٹیکس چور کو مراعات دے کر ٹیکس دہندا کا مزاق اڑایا جاتا ہے معاشی اصلاحات کے لئے غلط پالسیوں کا ادراک ضروری ہے، پاکستان میں صرف 10 فیصد لوگ ہیں جو ٹیکس اصلاحات کی بات کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…