بیجنگ (آئی این پی) چین نے کنگز کالج برطانیہ کے مرکز مطالعہ سائنس و سکیورٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگراموں اور ہر قسم کی اشیاء کے انتہائی اہم فراہم کنندگان کے طورپر پاکستان کی امداد جاری رکھے ہوئے ہے ، رپورٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ رپورٹ نوٹ کی ہے یہ بظاہر معقول دکھائی دیتی ہے لیکن تجزیے کے انتہائی قریب نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک اہم سوال کا جواب نہیں دیا گیا ،
یہ سوال یہ ہے آیا رپورٹ میں الزام لگائے جانیوالے پاکستان کو مصنوعات کی چینی برآمدات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادو ں اور اس کثیر الجہتی برآمدی کنٹرول میکنزم جس پر چین نے دستخط کئے کے تحت چین کی بین الاقوامی یا عدم پھیلاؤ برآمد ی کنٹرول کے بارے میں چین کے قومی ضوابط میں سے کسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ اگر اس قسم کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہے تو پاکستان کو چینی برآمدات خواہ اس کا حجم ہی زیادہ کیوں نہ ہو ری پروچ سے باہر ہے کیونکہ یہ دو دوست ہمسایہ ممالک کے درمیان محض عام تجارت ہے ۔ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ سنجیدہ ، مخلصانہ اور ذمہ دارانہ عدم پھیلاؤ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے چین نے ایک دہائی بھر کی کوششوں کے ذریعے مکمل جوہری عدم پھیلاؤ برآمدگی ، کنٹرول ،ضابطے کو لاگو کیا ہے ، چین کا نظام کیچ آل کنٹرولز، اصولوں اور لسٹ پر مبنی منیجمنٹ طریقے کو ا ختیار کر کے ورلڈ کلاس سٹینڈرڈ کے مطابق ہے آپ نے پوچھا ہے
کہ آیا کوئی انفرادی کمپنیاں یا افراد ہوں جو ممکن ہے ،تجارتی مفادات کیلئے عدم پھیلاؤ برآمدات سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں یا چین کے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوں میں آپ کو بتا سکتا ہوں ، ممکن ہے کہ ایسے واقعات ہوئے ہوں ، ذمہ داروں کو چین کے قوانین اور ضوابط کے مطابق سخت سزادی جائے گی ۔مزید برآں مجھے نہیں خیال کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جو اپنے ملک میں اس قسم کے کیس کے زیرو وقوع ہونے کی ضمانت دے سکتا ہو ۔ترجمان لو کانگ نے مزید کہا کہ متعلقہ رپورٹ میں کی جانیوالی قیاس آرائی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ، اگر متعلقہ تھنک ٹینک کو واقعی عدم پھیلاؤ برآمدی کنٹرول کے بارے میں فکر لاحق ہے انہوں نے تجویز پیش کی کہ اسے چائنا کے قومی عدم پھیلاؤ برآمدی کنٹرول ضوابط کا مطالعہ کرے اور چین کی خلاف ورزی کے بارے میں کسی نتیجے کے بارے میں پہنچے سے قبل انہوں نے جن کیسوں کا حوالہ دیا ہے اس کا موازنہ کریں تا ہم اگر اس کے مذموم مقاصد ہیں تو انہیں بلا تاخیر اپنے غیر حقیقت پسندانہ ابہام کو ترک کر دینا چاہئے ۔



















































