اسلام آباد (آئی این پی )سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110 سے وزیردفاع خوا جہ محمد آصف کی کامیابی کے خلاف تحریک انصاف کے امیدوارعثمان ڈار کی درخواست خارج کردی،عدالت عظمی نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔جمعرات کو چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے این اے 110سے متعلق انتخابی عذرداری کی سماعت کی۔ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو وزیردفاع خواجہ آصف کے مخالف امیدوار عثمان ڈار نے چیلنج کیا تھا۔ عدالت عظمی نے فریقین کے وکلا کے دلائل کے بعد دھاندلی سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف تمام درخواستوں کو خارج کردیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جب الیکشن کمیشن کے پاس ریکارڈ رکھنے کی جگہ نہیں تو کیا مال خانے میں رکھا گیا مواد محفوظ تصور ہوگا۔ آراوز کا کہنا ہے کہ الیکشن کا دن ان کیلئے روز محشر ہوتا ہے۔انتخابی افسروں کے پاس انتخابی مواد رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ وہ اتنی بڑی تعداد میں انتخابی مواد کہاں محفوظ کریں ؟
ریکارڈ کا محفوظ نہ ہونا الیکشن سسٹم کی اہم خامی ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔سب سے بڑی مثال مردم شماری کا نہ ہونا ہے۔خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسٹیٹس کو ٹوٹنا چاہیے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میری پوری زندگی میں تو یہ اسٹیٹس کو ٹوٹتا نظر نہیں آیا۔ فاروق ایچ نائیک نے دلائل میں کہا کہ دھاندلی سے متعلق کوئی بھی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ نادرا اور الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے بھی ٹیپمرنگ ظاہر نہیں ہوتی۔ گزشتہ روزعثمان ڈار کے وکیل بابراعوان کے دلائل مکمل ہوچکے تھے جبکہ خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جمعرات کو دلائل مکمل کیے۔
فاروق نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عثمان ڈار جس پولنگ اسٹیشن سے جیتے، وہاں بھی دھاندلی کا الزام لگا رکھا ہے،پورے حلقے کی دھاندلی کے لیے صرف 10پولنگ اسٹیشن کے ایجنٹس کو بطورگواہ پیش کیا،10گواہوں کا بیان حلفی لفظ بہ لفظ ایک جیسا ہے۔ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن آراوز کا تھا ،پریزائیڈنگ آفیسر نے خود ٹھپے لگائے ،الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق جن تھیلوں میں ووٹ موجود تھے انکی سیلیں ٹوٹ چکی تھیں الیکشن میں چوری نہیں بلکہ ڈکیتی ہوئی۔عثمان ڈار کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ حلقہ میں انتخاب ہی نہیں ہوا۔ ووٹوں کے تھیلے خواجہ آصف کی خدمت میں پیش کئے گئے اور کہا گیا کہ جو مرضی ہے کرلیں۔عدالت عظمی نے دلائل سننے کے بعد این اے 110میں دھاندلی سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواستیں خارج کردیں جبکہ فیصلے کی تفصیلات اور وجوہات الگ سے جاری کی جائیں گی۔



















































