پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ اوریورپی ممالک کے بھاری اخراجات اورنخرے ،اہم مسلمان ملک نے پاکستانی جے ایف تھنڈرپرنظریں جمالیں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کی فضائیہ جس کو (رائل سعودی ایئرفورس) بھی کہاجاتاہے ۔رائل سعودی ایئرفورس نے پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں میں دلچسپی کااظہارکردیاہے اور یہ طیارے بڑی تعداد میں خریدنے کی خواہش مند بھی ہے میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل محمد صالح العتیبی نے دو روز پہلےپاکستان کادورہ کیاتھا تاہم پاک فضائیہ کے ذرائع سے اب تک اس کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی۔ قبل ازیں پاکستان میں سعودی عرب کے موجودہ سفیر عبداللہ مرزوق الظہرانی کے حوالے سے بھی ایسی خبریں آچکی ہیں کہ سعودی حکومت، پاکستانی دفاعی مصنوعات میں دلچسپی لے رہی ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب خاص طور پر سعودی فضائیہ کےلئے جے ایف 17 تھنڈر کی ممکنہ خریداری سے متعلق کوئی خبر شائع ہوئی ہے۔جبکہ دفاعی تجزیہ نگار اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سعودی فضائیہ کے بھاری لڑاکا طیاروں میں ایف 15، یوروفائٹر ٹائفون اور پاناویا ٹورنیڈو شامل ہیں جب کہ ہلکے لڑاکا طیاروں میں اس کے پاس پرانی قسم کے ’’ایف 5 ای ٹائیگر II‘‘ ہی موجود ہیں جو نارتھروپ گرومین کے تیار کردہ ہیں۔ چونکہ پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر ہلکے اور کثیرالمقاصد لڑاکا طیاروں ہی سے تعلق رکھتا ہے،

اس لئے ممکنہ طور پر یہ سعودی فضائیہ میں ان ہی پرانے ایف 5 لڑاکا طیاروں کی جگہ لے گا۔ پاکستانی ’’تھنڈر‘‘ کی خریداری سے سعودی فضائیہ کو بیک وقت دو فائدے ہوں گےایک یہ کہ اخراجات میں کمی اور جدید طیاروں کا حصول ہوگا۔یہ بات اس لئے بھی درست ہے کیونکہ جے ایف 17 تھنڈر میں نہ صرف جدید ترین ریڈار نصب کرنے کی تیاری ہے بلکہ یہ حدِ نظر سے دور تک، فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں (BVRAAM) سے بھی لیس کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اسے استعمال میں رکھنے کی لاگت (آپریشنل کاسٹ) بھی بہت کم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب، پاکستان سے دو نشستوں والے ’’جے ایف 17 بی‘‘ خریدے تاکہ انہیں اپنے پائلٹوں کی تربیت کے علاوہ زمینی اہداف کے خلاف مخصوص کارروائیوں میں بھی استعمال کرسکے۔ واضح رہے کہ ’’جے ایف 17 بی‘‘ کی اوّلین پروازیں اس سال کے اختتام تک متوقع ہیں۔یہ امکان بھی بعید از قیاس نہیں کہ سعودی عرب، پاکستان سے دونوں طرح کے (یک نشستی اور دو نشستی) جے ایف 17 لڑاکا طیارے بتدریج خریدنا چاہتا ہو۔ یہ نکتہ اس لئے بھی قابلِ توجہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس وقت شام میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی افواج کو مسلسل مزاحمت کا سامنا ہے۔ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں سب سے مؤثر ثابت ہورہی ہیں لیکن اس ضمن میں امریکی اور یورپی لڑاکا طیاروں کے اخراجات سعودی عرب پر بھاری اقتصادی بوجھ کے طور پر مسلط ہیں جسے سعودی عرب کم کرناچاہتاہے اورسعودی حکام کاخیال ہے کہ ایک طرف توامریکہ اوریورپ لڑاکاطیارے بھاری معاوضے پردیتے ہیں اورساتھ اپنی شرائط بھی منواتے ہیں ۔سعودی حکام کاکہناہے کہ اب امریکہ اوریورپ کے نخرے پیسے دیکربھی نہیں اٹھائے جاسکتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…