اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کیساتھ سرحد پر رینجرز کی جگہ پر فوجی اہلکاروں کو تعینات کرناشروع کردیااور تعدادمیں اضافہ کیا جارہاہے تاہم بھارت کے اس دعوے پر پاک فوج کا موقف معلوم نہیں ہوسکا اور نہ ہی بھارتی میڈیا نے اپنی خبر میں پاک فوج کا موقف شامل کیا۔ ٹائمزآف انڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ جموں میں پاک بھارت سرحد پر پاکستان رینجرز کی جگہ جموں ، راجھستان ، گجرات اور بنگال کے سرحدی علاقوں میں پاک فوج کے اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاگیاکہ رینجرز کی چیک پوسٹوں پر ہتھیاروں کی بھی تنصیب کردی گئی اور بی ایس ایف کا سامنا کرنے کے لیے باقاعدہ دستے تعینات کردیئے گئے۔ سینئر حکام کے حوالے سے کہاگیاکہ ’ یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان آرمی نے سرحد پر رینجرز پوسٹوں کا کنٹرول سنبھال لیا تاہم وہاں نقل وحمل بڑھ گئی، کئی گاڑیاں مسلسل فوجی اہلکار اور ہتھیار لارہی ہیں اور یہ عمل گزشتہ آٹھ نو دن سے جاری ہے ، ایسی انٹیلی جنس اطلاعات نہیں کہ دراصل پاکستان آرمی کیا کررہی ہے لیکن بظاہر لگتاہے کہ سرحد پر فوجی موجودگی بڑھاناچاہتے ہیں ۔
پاکستان بارڈر پر کیا تعینات کر رہا ہے؟ بھارتی میڈیا کی ایسی رپورٹ کہ بھارت کے ہی ہوش اُڑ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(تیسرا حصہ)
-
سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق
-
بچی کو 16 کروڑ روپے کا زندگی بچانے والا انجیکشن لگادیا گیا
-
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں بڑی کمی ہوگئی
-
وفاقی حکومت کے سرکاری ملازمین کیلئے نئے قوانین نے ہلچل مچا دی
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
ورلڈ بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا ءسے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں شامل کر دیا
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر 15 افراد کی خواجہ سرا سے اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کیس
-
ڈیزل سے لدا پاکستانی جہاز خیرپور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد واپس ہوگیا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ
-
یو اے ای نے پاکستانی و بھارتیوں سمیت متعدد کرکٹرز کو شہریت دیدی
-
شوہر کی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی انٹری پر دولہا اور دلہن فرار
-
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا



















































