جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

معاملہ سپریم کورٹ میں،اب کیا ہوگا؟نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ جب کچھ کھو جاتا ہے تو انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہیں ،میرے پاس تبصرہ کیلئے اس سے بہتر الفاظ نہیں ہیں، جب کچھ کھو جاتا ہے تو یہی قرآنی آیت پڑھتے ہیں، لگتا ہے پانامہ لیکس کا معاملہ کہیں کھو گیا،پارلیمانی جماعتوں نے متفقہ ٹی او آرز بنانے کیلئے 7 ماہ تک ٹی ٹونٹی ،ون ڈے اور ٹیسٹ میچ کھیلابلکہ 7 ماہ تک پارلیمنٹ نے قوم کو دھوکہ دیا۔میں اپوزیشن کے ٹی او آرز سے پوری طرح متفق ہوں؟

اپوزیشن کے متفقہ ٹی او آرز پر حکومت پہلے نہیں مانی اب کیسے مانے گی آگے چل کر دیکھتے ہیں۔سپریم کورٹ نے ٹی او آرز بنائے تو پھر کوئی سیاسی جماعت اس میں ’’اف اینڈ بٹ ‘‘کا اضافہ نہیں کر سکے گی۔رواں ماہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریٹائر ہونا ہے پھر نیا چیف آئے گا۔بنچ بھی بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔پانامہ لیکس کا ریکارڈ بھی میاں نواز شریف،چودھری نثار، اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور ان کے ماتحت اداروں نے دینا ہے۔دیکھتے ہیں تحقیقات کب تک مکمل ہوتی ہے اور کیا نتیجہ نکلتا ہے۔حکومت اداروں سمیت سب سے کھیل کھیلتی ہے۔ اب بھی کھیل کھیلا جارہاہے ۔پانی میں جتنی مرضی مدھانی ڈالیں مکھن نہیں نکلتا۔

اپوزیشن کے متفقہ ٹی او آرز کے ساتھ ہیں مگر انہیں کون مانے گا۔کیا حکومت پانامہ لیکس کے احتساب کا آغاز وزیراعظم سے شروع کرنے کے فیصلے کو مان لے گی؟پانامہ لیکس سے متعلقہ جملہ ریکارڈ تو حکومت نے ہی دینا ہے کیا وہ آسانی اور سہولت کے ساتھ اپنے ہی خلاف یہ ریکارڈ مہیا کرے گی۔سابق دور حکومت میں سپریم کورٹ کے بار بار کہنے پر اس وقت کے وزیراعظم نے ایک خط نہیں لکھا تھا۔اب نااہلی یقینی بنانے والا ریکارڈ کیسے فراہم ہو گا یہ دیکھنے اور سوچنے کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی چاہے تو چار دن میں پانامہ لیکس کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔خود وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں بتایا دبئی کی مل بیچ کر جدہ کی مل خریدی اور جدہ کی مل خرید کر لندن کے فلیٹ خریدے۔صرف وزیراعظم سے یہ پوچھ لیا جائے کہ دبئی سے لے کر لندن پہنچنے تک یہ پیسہ کہاں پڑا رہا اور دبئی سے جدہ اور جدہ سے لندن کیسے پہنچا ؟اور یہ پیسہ اور پراپرٹیز پاکستان کے اندر ملکی قوانین کے تحت ڈیکلیئر کیوں نہیں ہوا؟معاملہ حل ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ 2 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور اس احتجاج کو ملتوی کرنے کا فیصلہ عمران خان نے میرے مشورے کے ساتھ نہیں کیا اور نہ ہی میں مشورہ دینے کی پوزیشن میں ہوں ۔احتجاج کا اعلان اور پھر یوم تشکر ان کی جماعت کے اپنے فیصلے ہیں۔پانامہ لیکس کا کھیل اب قوم دیر تک دیکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اپنا تفصیلی موقف آئندہ چند روز میں دوں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے معاملے کی کوئی سمت نظر نہیں آرہی۔ تحقیقات میں دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔میں اس وقت حیرت میں ہوں۔سمجھ نہیں آرہی اس پر کیا تبصرہ کروں۔یوم تشکر منانا تحریک انصاف کا حق ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…