جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

2نومبر دھرنا ۔ ۔حکومت کیلئے ایک اور پریشانی۔۔ عالمی تنظیم حرکت میں آگئی ۔۔ خبر دار کر دیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 2نومبر اسلام آباد کا دھرنا اس وقت عروج پر ہے ۔ پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے حراست میں لیے گئے درجنوں کارکنان کو بغیر کسی شرط کے فوری طور پر رہا کیا جائے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کی نقل و حمل میں رکاوٹوں کو ہٹایا جائے اور لوگوں کو پرامن جلسے کی اجازت دی جائے۔تنظیم کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر چمپا پٹیل نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے ہیں اور اس کے علاوہ پشاور اسلام آباد موٹر وے کو بند کردیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو مصدقہ رپورٹس ملی ہیں کہ سیکشن 144 کے تحت سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔اس کریک ڈاؤن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آئین پاکستان عوام کو جلسے، اظہار اور نقل و حمل کی اجازت دیتا ہے۔ انتظامیہ بغیر کسی شرط کے فوری طور پر حراست میں لیے افراد کو رہا کرے۔چپما پٹیل نے بیان میں مزید کہا ہے کہ سیکشن 144 نو آبادیاتی زمانے کا ظالمانہ قانون ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ایسے قانون کی حقوق کی پاسداری کرنے والے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔اس قانون کو لوگوں کو پرامن جلسے سے روکنے کے لیے کبھی نہیں استعمال کرنا چاہیے اور اس قانون کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ہنگامے ہوتے ہیں تو حکومت کو ہنگامے کرنے والوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ چند افراد کے باعث اکثریت کے حق کو پامال کرنا حکومت پاکستان کی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…