جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

،حرمین کے دفاع کےلئےپاک فوج کے دستے سعودی عرب بھیجے جائیں،پروفیسرساجد میر

datetime 31  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت اہلحدیث کے مرکزی امیراورسینیٹرپروفیسرساجد میرنے کہاہے کہ آئے روز حوثی باغیوں کی سعودی عرب میں جارحیت بڑھتی جا رہی ہے ،حرمین کے دفاع کے فوری طور پر پاک فوج کے دستے سعودی عرب بھیجے جائیں ۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پرسینیٹر پروفیسرساجد میر کی قیادت میں مرکز 106۔ راوی روڈ پر حوثی باغیوں کی طرف سے میزائل سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے خلاف دفاع حرمین ریلی نکالی گئی۔پروفیسرساجد میرنے اس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حوثی باغیوں کی جارحیت اور بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر حرمین کے دفاع کیلئے فوری طور پر

پاک فوج کے خصوصی دستے سعودی عرب بھیجے جائیں۔ مکہ مکرمہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا محور و مرکز ہے، اسکی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا اور میزائل سے حملہ کرنا عالم اسلام کیخلاف سب سے بڑا حملہ ہے اور یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے انتہائی باعث تشویش ہے۔ حوثی باغیوں نے بلیسٹک میزائل سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں پر حملہ کیا ہے اور یہ عالم اسلام کی تاریخ میں سب سے شرمناک حادثہ ہے،جن لوگوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے وہ پوری مسلم دنیا کے مجرم ہیں اور ایسے لوگ ناقابل معافی ہیں۔
یمن سے حوثی باغیوں کے ذریعہ مکہ مکرمہ پر کئے جانے والے حملہ سے پوری دنیا میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور ہر مسلمان فکرمند ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ دوغلاپن ہے کہ طالبان کو دہشت گرد کہنے والوں کی زبانیں حوثی باغیوں پر کیوں بند ہیں۔ پروفیسر ساجد میر نے شرکا سے حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے ہرقسم کی جانی ومالی قربانی کا حلف لیا، انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا دشمن اسلام اور پاکستان کا دشمن ہے۔ سعودی عرب کا دفاع پاکستان اور عالم اسلام کا دفاع ہے۔ بندوق کے زور پر آئینی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ قبل ازیں ساجد میر نے اہلحدیث یوتھ فورس کے انتخابی اجلاس سے خطاب کیا۔ مرکزی شوری نے آئندہ چار سال کیلئے متفقہ طور پر اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان کی صدارت کیلئے حافظ فیصل افضل شیخ اورجنرل سیکرٹری حافظ عامر صدیقی کا انتخاب کیا جن سے مرکزی امیر نے حلف لیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…