جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے اہم رہنما دشوار گزار جنگل پارکرکے عمران خان کے پاس جاپہنچے

datetime 29  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) پی ٹی آئی سندھ کے سینئر نائب صدر حلیم عادل شیخ تمام رکاوٹیں پھلانگ کر بنی گالہ میں چیئرمین عمران خان سے ملنے جاپہنچے،چیئرمین عمران خان سے ملاقات میں شہر کی موجود ہ صورتحال پر بات چیت کی گئی ،جبکہ دشوار گزار جنگلوں کو پھلانگ کر ایک طویل جدوجہد کے بعد وہ اپنے قائد سے جاملے،حلیم عادل شیخ کے ساتھ کراچی سے آنیو الے ساتھیوں میں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر مسرورسیال ،جاوید اعوان ،شیخ اقبال ، مرزا عظیم ،تسنیم زہرا، دعا بھٹو،جمیلہ بلوچ اور دیگر نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرکے پولیس کو اپنی جانب متوجہ کیے رکھا جبکہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کرحلیم عادل شیخ جنگلوں کے راستے سیڑھیاں لگا کر جنگلہ کراس کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچنے پر کامیاب ہوگئے ، اس موقع پران کا کہنا تھا کہ چاہے کیسی بھی مشکل ہو کوئی پہاڑ یا چٹان ہو اگر خان نے پکارا ہے تو ہم ضرور جائینگے اس کی چاہے ہمیں کوئی بھی قیمت چکانا پڑے،انہوں نے کہاکہ حکومت ابھی سے ہی ہمارے چند ہزار کارکنوں سے خوفزدہ ہے اگر 2نومبر کو 10لاکھ لوگوں نے اسلام آباد کا رخ کرلیا تو ان کا کیا عالم ہوگا،انہوں نے کہاکہ حکومت نے خود ہی پورے صوبے کو بند کردیا ہے جبکہ خیبر پنختونخوا سے بھی راستے بند کردیئے ہیں جو کہ صوبائی حکومت کی سراسر نااہلی ہے انہوں نے کہا کہ یہ چاہے جتنی بھی رکاوٹیں کھڑی کرلیں چیئرمین عمران خان کے اشارے پر نکلے والے عوامی سمندر کو روک نہیں پائینگے ۔اس وقت پنجاب حکومت کا یہ عالم ہے کہ جہاں وہ کارکنوں کو مار پیٹ رہی ہے اور انہیں گرفتار کررہی ہے وہاں انہوں نے بنی گالہ اور اسلام آباد میں موجود کارکنوں پر بہت سی پابندیاں لگادی ہیں مگر ہم ان کو یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے مزموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونگے ،یہ خود ہی عدالتی حکم کی دھجیاں اڑارہے ہیں اور سزا ہمیں دی جارہی ہے ،جبکہ اگر ہم اپنا جلسہ کرتے تو پرامن رہتے مگر ان لوگوں کی دس لاکھ افراد کانام سن کر نیندیں اڑچکی ہیں اور انہیں اپنی حکومت کاخاتمہ ہوتا ہوا دکھائی دے رہاہے ،انہوں نے کہا کہ اب صورتحال بدل چکی ہے عوام کی تعداد دو نومبر کو اس سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ عوام نے کرپٹ اورپانامہ کے چورحکمرانوں کا بوریا بستر گول کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…