جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

تقسیم ہند کے بعد پہلی باربڑا اقدام،پاکستان کے سکھ برادری کو چار بڑے تحفے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) حکومت پاکستان نے 70سال سے بند گردوارے کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے 547 ویں جنم دن کے موقع پر سکھ برادری کو چار تحائف دینے کا منصوبہ بنا لیا ۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے برطانوی نشریاتی اداروے کو بتایا کہ 14 نومبر سے ننکانہ صاحب میں شروع ہونے والی تقریبات سے پہلے وہاں تقریباً 70 برس سے بند گرودوارہ کیارہ صاحب کو عبادت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔اس وقت 350 برس قدیم اس گرودوارے تزئین و آرائش جاری ہے اور جو آئندہ چند دن میں مکمل ہو جائے گی۔اس گردوارہ کو تقسیم ہند سے پہلے فسادات کے دوران بند کر دیا گیا تھا۔صدیق الفاروق نے بتایا کہ ننکانہ صاحب میں ہی بابا گرو نانک کے ساتھ مسلمان ستار نواز بھائی مردانہ کی آٹھ سو مربع گز پر یادگار کی تعمیر بھی جاری ہے جو تین سے چار ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔اس کے ساتھ پہلے سے اعلان کردہ بابا گورو نانک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد بھی جنم دن کی تقریبات کے موقع پر رکھا جائے گا۔یہ یونیورسٹی چار سو ایکڑ پر تعمیر کی جائے گی جس میں پنجابی کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھائے جائیں گے۔انہوں نے سکھ برادری کے لیے چوتھے تحفے کے بارے میں بتایا کہ ناروال میں کرتار پور صاحب میں برقی انگھیٹہ صاحب کی تعمیر شروع ہو رہی ہے جو کہ 10 نومبر تک مکمل ہو جائے گی۔سکھ مذہب کے مطابق کرتارپور صاحب میں بابا گرو نانک کا ’’جوتھی جوتھ ‘‘ہوا یعنی ان کا نور اپنے حتمی مقام پر پہنچ گیا تھا۔سکھ مذہب میں اس انگھیٹے ’’برڈ روپ‘‘ یعنی پرانے ہو جانے والے گروو گرنتھ صاحب کو سسکار کرنے (جلانے) کے بعد اس کی راکھ کو دریا میں بہا دیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہونے کے باوجود بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے سکھ یاتریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان آ رہی ہے۔صدیق الفاروق نے بتایا کہ کینیڈا، برطانیہ سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی پاکستان کا آمد کا سلسلہ پانچ نومبر سے شروع ہو جائے گا جبکہ انڈیا سے سکھ یاتری 12 نومبر کو پہنچیں گے اور 21 نومبر تک قیام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار توقع ہے کہ 2500 سے زیادہ سکھ یاتری پاکستان آئیں گے اور ان مہمان یاتریوں سمیت دیگر ممالک اور پاکستان میں مقیم سکھ برادری کو یہ چار تحائف دیے جا رہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…