جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

مارشل لاء یا ان ہاؤس تبدیلی ؟ مولانافضل الرحمان نے بھی پیش گوئی کردی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ منتخب وزیر اعظم کو بچانا کوئی جرم نہیں ہے ، ہم کسی کے باپ کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جمہوریت کو غیر مستحکم کرے ، مارشل لاء یا ان ہاؤس تبدیلی نہیں دیکھ رہا ،پی ٹی آئی نے استعفے دئیے اور واپس لیے ، سول نافرمانی کی تحریک چلائی اسے واپس لے لیا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جہاں یو ٹرن ہو وہاں بورڈ لگانے کی بجائے ’’انکی ‘‘تصویر لگا دی جائے ، اسلام آباد 2نومبر تو کیا ساری زندگی بند نہیں ہوسکتا ، عمران خان کا سپریم کورٹ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کافیصلہ لینا چاہتا ہے ، عمران خان کو سمجھا جائے وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ مارشل لاء آیا تو اسے خوش آمدید کہوں گا۔ ان خیالات کا اظہارانہو ں نے جمعیت علماء پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہا شمی ، سیکرٹری جنرل صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دورا ن کیا ۔ اس موقع پر قاری زوار بہادر ، قاری سید صداقت علی اور دیگر بھی مو جود تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک جمہوری منتخب وزیر اعظم کو بچانا کو ئی جرم نہیں ہے ،کسی کے باپ کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جمہوریت کو غیر مستحکم کرے اور یہاں بیرونی ایجنڈا نافذ کر ے ۔پانامہ لیکس کے بعد وزیر اعظم آئین کی شک 62اور 63پر پو را اترتے ہیں یا نہیں اس بات کا فیصلہ سپریم کو رٹ کر ے گی اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوا ہم وہ قبول کریں گے ، اس وقت موجودہ مسئلے کے حل کیلئے ملک میں سپریم کو رٹ سے بڑا کوئی فورم نہیں لیکن عمران خان سپریم کو رٹ پر بھی خدشات اور عدم اعتماد کا اظہار کررہا ہے ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سپریم کو رٹ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد 2نومبر تو کیا ساری زندگی بند نہیں ہوسکتا ،حکومت اس حوالے سے ہر گز خوفزدہ نہیں ،لیکن اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ضرور ہے کہ اسے عام عوام کے جان ومال کا تحفظ کیسے کرنا ہے ،حکومت پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کس طرح نمٹے گی اس حکمت عملی بارے میری ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کیس عدالت میں ہے اور عمران خان بھی یہی چاہتے تھے تو اب عدالت کے فیصلے کاانتظار کریں ، اس دوران دھرنوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔عمران خان جو بھی بڑا بول بولتے ہیں اسے خود ہی واپس لے لیتے ہیں ۔انہوں نے استعفے دئیے اور واپس لیے ، سول نافرمانی کی تحریک چلائی اسے واپس لے لیا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جہاں یو ٹرن ہو وہاں بورڈ لگانے کی بجائے ’’ انکی ‘‘تصویر لگا دی جائے لوگ خود ہی سمجھ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اس ملک کے سپہ سالار ہیں ، ان کی مدت ملازمت میں توسیع کرنا یا نہ کرنا وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے ، ان کی توسیع ہونے یا نہ ہونے کے معاملات کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے ۔ جنرل راحیل شریف نے بطور فوج کے سپہ سالا نیک نامی کمائی ہے،دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیا اس طرح کی باتیں ان کی شخصیت کو متنازعہ بنانے کا سبب ہو سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارامذہبی جماعتوں کا آپسی اتحاد کبھی نہیں ٹوٹا ، ہم آج بھی متحد ہیں ۔مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے بہت جلد پاکستان اور کشمیر کی تمام جماعتوں کی اے پی سی بلارہے ہیں ،جب تک بھارت میں ظلم کرنے کی ہمت موجود رہے گی تب تک کشمیریوں میں آزادی کی جنگ لڑنے کی ہمت موجود رہے گی بالآخر کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…