ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

حکومت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں مگر ۔ ۔۔ پیپلز پارٹی نے 4مطالبات سامنے رکھ دیئے

datetime 23  اکتوبر‬‮  2016 |

سکھر (آئی این پی) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت پیپلز پارٹی سے بات کرنا چاہتی ہے تو ہمارے چار مطالبات ماننے پڑیں گے‘ پانامہ لیکس پر بل زیر التواء ہے‘ سی پیک پر بات سلامتی کمیٹی کی بحالی جس کا وعدہ وزیراعظم خود کرچکے ہیں‘ ہم اسلام آباد کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں نہ ہم شہریوں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ سیاستدانوں کا کام شہریوں کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ انہیں سہولتیں میسر کرنا ہیں‘ عمران خان ڈگڈگی بجا رہے ہیں خود کو اچھا لیڈر ثابت کرنے کے لئے مگر وہ ثابت نہیں کرپارہے‘ وہ ہمیشہ ڈگڈگی بجاتے رہے ہیں‘ عمران ڈبل گیم کھیل رہا ہے مگر ہم ڈبل گیم نہیں کھیلتے‘ عمران خان وزیراعظم کے سب سے بڑے چاہنے والے ہیں‘ حکومت کے کتے کھانا بچا کر رکھ دیتے ہیں مگر غریبوں کو دو وقت کا کھانا نہیں ملتا۔ اتوار کو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں بات چیت سے انکار جمہوریت کی نفی ہوگی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم ملنا چاہتے ہیں یہ انہوں نے غیر رسمی طور پر رابطہ کیا اگر حکومت پیپلز پارٹی سے بات کرنا چاہتی ہے تو ہمارے چار مطالبات ماننے پڑیں گے۔ پانامہ لیکس پر بل زیر التواء ہے ‘ سی پیک پر بات کریں‘ سلامتی کمیٹی کی بحالی کا اعلان اور وعدہ وزیراعظم صاحب نے ہم سے خود کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں سیاست کو سمجھتے ہیں ہم کھلے دل سے حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں اور ہمارا ایجنڈا واضح ہے ہم سیاست کو بھی سمجھتے ہیں۔ بال حکومت کے کورٹ میں ہے۔ پیپلز پارٹی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے خورشید شاہ نے کہا کہ اسلام آباد کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں نہ ہی ہم شہریوں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ سیاستدانوں کا کام شہریوں کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ انہیں سہولتیں فراہم کرنا ہے راستے بند کرکے شہریوں کو پریشان کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ عمران خان نہ مانے‘ حکومت بھی نہ مانی تو معاملہ تصادم کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے چار مطالبات نہ مانے گئے تو سات نومبر کو لانگ مارچ ہوگا ہم نے قربانیاں دیں ہیں کچھ لوگوں نے تھپڑ بھی نہیں کھایا۔ عمران خان نے بہت اچھی گیم کھیلی ہے وہ خود کو لیڈر ثابت کرنے کے لئے سب کچھ کررہے ہیں مگر لیڈر بن نہیں پارہے ہم ڈبل گیم نہیں کھیلتے ہماری پالیسی واضح ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پنجاب میں ہماری کامیابیاں سرپرائز ہوں گی دھرنے کے علاوہ بہت سے راستے ہیں پارلیمنٹ بھی موجود ہے جب حکومت پر مشکل وقت آئے تب پائوں پڑتی ہے اچھے وقت میں گلہ دباتی ہے۔ میں پانامہ لیکس والا نہیں ہوں جو کچھ کمایا محنت سے کمایا۔ عمران خان کا کھیل ڈگڈگی کا کھیل ہے اور صرف ڈگڈگی بجاتے رہیں گے وہ ہمیشہ ہی جیسے حالات ہیں لگتا ہے حکومت 2018 تک چل نہ پائے گی اگر حالات خراب ہوئے اور حکومت گئی تو ذمہ دار پیپلز پارٹی نہیں ہوگی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نواز شریف کے سب سے بڑے حامی ہیں وزیراعظم کے پاس بڑا موقع ہے عدالت میں پیش ہونا چاہئے۔ عمران نے انا پرستی اور غلط سیاست سے حکومت کو مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ صادق آباد میں دو بھائیوں کیلئے عدالت اپنے فنڈز سے امدادی رقم جاری کرے اس وقت سب سے بڑے سپورٹر نواز شریف کے عمران خان ہیں ہمیں ملکی حالات دیکھ کر خوف آرہا ہے لوگوں کو مجبوراً کہہ رہا ہوں بریانی بیچو حکومت روزگار نہیں دے گی۔ حکومت تو لوگوں سے روزگار چھین رہی ہے ہم آگے کی بجائے پیچھے جارہے ہیں بے روزگاری نے تباہی مچادی ہے حکومت کے کتے کھانا بچا کر رکھ دیتے ہیں مگر غریبوں کے لئے دو وقت کا کھانا نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…