ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

خبردار ! ہوشیار ! مشرق وسطیٰ میں تشدد کی لہر ،پاکستان حرکت میں آگیا،خطرناک انتباہ جاری کردیا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تشدد کی لہر پر عالمی برادری نے ردعمل نہ دیا تو بڑا نقصان ہوگا ٗمسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی ضرورت ہے۔سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ پر بحث کے سیشن میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ فلسطین پر سفاکانہ اور طویل قبضہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہاہے ٗشام کی سنگین صورتحال بھی المیوں کو جنم دیرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کے بحرانوں کی وجہ سیلاکھوں لوگ مشکلات کا شکارہیں۔ دہشت گردی کے بڑھتے ناسور پر فوری قابوپاناہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کا فوری حل ممکن نہیں۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیئے 1967سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آذاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین پر غاصبانہ اسرائیلی قبضہ اور فلسطینی باشندوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنا خطے میں بے سکونی اور بحرانی کیفیت کا بنیادی سبب ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اسرائیلی آباد کاری کو روکنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی سے اسرائیل کی ہٹ دھرمی میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شام کی سنگین صورتحال کے باعث انسانی مشکلات میں اضافہ ہو ا ہے اور متعدد افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور انہیں مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خاتمے پر زور دیتے ہوے کہا کہ شام کی جغرافیائی حدود کا تحفط لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بین القوامی فوجی اتحاد عراق سے داعش کو نکال دے گا۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ داعش اور اس جیسے دیگر عناصر کے خاتمے کے لیے فوجی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے تاکہ 2003سے مشکلات کے شکار عراق میں مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں کے درمیان جاری تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کرکے دیرپا امن کی بنیاد رکھی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں امن کی بنیاد رکھنے کے لیے ایک ایسا نظام ضروری ہے جو یمن کے تمام سیاسی، مذہبی اور قبائیلی طبقات کے درمیان اتحاد اور مصالحت قائم رکھ سکے اور جسے بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…