بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

اب آپ کوپانی ابالنے کےلئے گیس یالکڑیوں کی ضرورت نہیں ،چینی سائنسدانوں کی ایجاد نے بڑامسئلہ حل کردیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگرکسی آدمی نے پانی کوابالناہوتووہ کسی پتیلے میں پانی پھرکرچولھے پررکھ دیتاہے اورساتھ گیس یالکڑیوں کااستعمال کرکے اس کوگرم کرکے ابالتاہے اوربعض لوگ اس کام کے لئے الیکٹرک ہیٹراستعمال بھی کرتے ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ایساآلہ ایجادکرلیاہے کہ آپ کوگیس یالکڑی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ چین کے مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ آلہ ایجاد کیاہے اوراس ایجاد میں سائنس دانوں نے فوم، حرارت کے موصل مادّے، اور ببل ریپ کا استعمال کیا۔سائنسدانوں کادعوی ہے کہ ان کی ایجاد گھریلوصارفین کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے بلکہ صنعتوں میں بھی اس کواستعمال کیاجاسکتاہے اوراس کااستعمال بھی بہت آسان ہے ۔ ماہرین نے بتایاہے کہ یہ اسفنج گھروں سے زیادہ صنعتوں کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔ صنعتوں میں پانی کو بھاپ بنانے کے لیے عام طور پر گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ سے بھی یہ کام لیا جاتا ہے، جس کے لیے مہنگے عدسے اور آئینے لگائے جاتے ہیں تاکہ وہ شمسی شعاعوں کو پانی پر مرتکز کرسکیں۔ دونوں ہی طریقے مہنگے ہیں، تاہم سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ اسفنج کی مدد سے پانی گرم کرنے پر کئی گنا کم لاگت آئے گی۔واضح رہے کہ یہ اسفنج تانبے کا ایک ٹکڑا ہے جس میں برقی مقناطیسی طیف کے بیش تر حصوں کو جذب کرلینے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب اسے دھوپ میں رکھا جاتا ہے تو یہ حرارت جذب کرتا ہے۔ جب اس پر سے پانی گزارا جاتا ہے تو حرارت کی وجہ سے وہ گرم ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ بھاپ بن جاتا ہے۔ اسفنج کے اوپر ببل ریپ کی تہ چڑھائی گئی ہے جس میں سے گزر کر شمسی شعاعیں اسفنج پر مرتکز ہوجاتی ہیں اور اس کے درجۂ حرارت میں اضافہ کرتی ہیںاورپانی ابلناشروع ہوجاتاہے جبکہ اس کے استعمال سے گیس اوردیگرچیزو ں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔ابتدا میں سائنس دانوں نے ببل ریپ کے بجائے اس ڈیوائس میں گریفائٹ کا استعمال کیا تھا، مگر انھوں نے دیکھا کہ گریفائٹ سے کام لینے کے باوجود بھی حرارت کی بڑی مقدار ضایع ہورہی تھی۔ اس موڑ پر محققین کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سا میٹیریل استعمال کیا جائے جس سے حرارت کا ضیاع کم سے کم ہوجائے۔ ایک روز گانگ چین گھر میں بیٹھا اسی مسئلے پر غور کررہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کھڑکی سے باہر باغیچے میں کوئی سرگرمی انجام دیتی اپنی بیٹی پر پڑی۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کیاریوں پر بنے ہوئے جنگلے کو ببل ریپ سے ڈھانپ رہی ہے۔ماہرین کے خیال میں یہ بات پہلے ہی اس کے علم میں تھی کہ ببل ریپ روشنی کو مرتکز کرتا ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا اور نتیجہ اس کی توقع سے بھی بڑھ کر برآمد ہوا۔ گانگ اور اس کے ساتھی آزمائشی تجربات کے بعد اب اپنی ایجاد میں مزید بہتری لانے کے لیے تحقیق اور تیاری کا کام کررہے ہیں۔ سائنسدانوں نے کہاہے کہ آئندہ برس یہ ایجاد عام فروخت کے لیے پیش کی جاسکتی ہے۔ان کاکہناہے کہ ابھی اسی ایجاد میں مزید تبدیلیاں لائی جائیں گی تواس کااستعمال مزید وسیع پیمانے کےلئے بھی بڑھ جائے گاجبکہ اس کی قیمت بھی عام آدمی کی پہنچ میں ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…