بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

اب آپ کوپانی ابالنے کےلئے گیس یالکڑیوں کی ضرورت نہیں ،چینی سائنسدانوں کی ایجاد نے بڑامسئلہ حل کردیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگرکسی آدمی نے پانی کوابالناہوتووہ کسی پتیلے میں پانی پھرکرچولھے پررکھ دیتاہے اورساتھ گیس یالکڑیوں کااستعمال کرکے اس کوگرم کرکے ابالتاہے اوربعض لوگ اس کام کے لئے الیکٹرک ہیٹراستعمال بھی کرتے ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ایساآلہ ایجادکرلیاہے کہ آپ کوگیس یالکڑی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ چین کے مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ آلہ ایجاد کیاہے اوراس ایجاد میں سائنس دانوں نے فوم، حرارت کے موصل مادّے، اور ببل ریپ کا استعمال کیا۔سائنسدانوں کادعوی ہے کہ ان کی ایجاد گھریلوصارفین کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے بلکہ صنعتوں میں بھی اس کواستعمال کیاجاسکتاہے اوراس کااستعمال بھی بہت آسان ہے ۔ ماہرین نے بتایاہے کہ یہ اسفنج گھروں سے زیادہ صنعتوں کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔ صنعتوں میں پانی کو بھاپ بنانے کے لیے عام طور پر گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ سے بھی یہ کام لیا جاتا ہے، جس کے لیے مہنگے عدسے اور آئینے لگائے جاتے ہیں تاکہ وہ شمسی شعاعوں کو پانی پر مرتکز کرسکیں۔ دونوں ہی طریقے مہنگے ہیں، تاہم سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ اسفنج کی مدد سے پانی گرم کرنے پر کئی گنا کم لاگت آئے گی۔واضح رہے کہ یہ اسفنج تانبے کا ایک ٹکڑا ہے جس میں برقی مقناطیسی طیف کے بیش تر حصوں کو جذب کرلینے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب اسے دھوپ میں رکھا جاتا ہے تو یہ حرارت جذب کرتا ہے۔ جب اس پر سے پانی گزارا جاتا ہے تو حرارت کی وجہ سے وہ گرم ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ بھاپ بن جاتا ہے۔ اسفنج کے اوپر ببل ریپ کی تہ چڑھائی گئی ہے جس میں سے گزر کر شمسی شعاعیں اسفنج پر مرتکز ہوجاتی ہیں اور اس کے درجۂ حرارت میں اضافہ کرتی ہیںاورپانی ابلناشروع ہوجاتاہے جبکہ اس کے استعمال سے گیس اوردیگرچیزو ں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔ابتدا میں سائنس دانوں نے ببل ریپ کے بجائے اس ڈیوائس میں گریفائٹ کا استعمال کیا تھا، مگر انھوں نے دیکھا کہ گریفائٹ سے کام لینے کے باوجود بھی حرارت کی بڑی مقدار ضایع ہورہی تھی۔ اس موڑ پر محققین کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سا میٹیریل استعمال کیا جائے جس سے حرارت کا ضیاع کم سے کم ہوجائے۔ ایک روز گانگ چین گھر میں بیٹھا اسی مسئلے پر غور کررہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کھڑکی سے باہر باغیچے میں کوئی سرگرمی انجام دیتی اپنی بیٹی پر پڑی۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کیاریوں پر بنے ہوئے جنگلے کو ببل ریپ سے ڈھانپ رہی ہے۔ماہرین کے خیال میں یہ بات پہلے ہی اس کے علم میں تھی کہ ببل ریپ روشنی کو مرتکز کرتا ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا اور نتیجہ اس کی توقع سے بھی بڑھ کر برآمد ہوا۔ گانگ اور اس کے ساتھی آزمائشی تجربات کے بعد اب اپنی ایجاد میں مزید بہتری لانے کے لیے تحقیق اور تیاری کا کام کررہے ہیں۔ سائنسدانوں نے کہاہے کہ آئندہ برس یہ ایجاد عام فروخت کے لیے پیش کی جاسکتی ہے۔ان کاکہناہے کہ ابھی اسی ایجاد میں مزید تبدیلیاں لائی جائیں گی تواس کااستعمال مزید وسیع پیمانے کےلئے بھی بڑھ جائے گاجبکہ اس کی قیمت بھی عام آدمی کی پہنچ میں ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…