جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ذاتی کاروبار کو قومی مفاد پر ترجیح ،عدالت نے تفصیلی فیصلہ سنادیا،شریف فیملی ایک اوربڑی مشکل میں

datetime 12  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور (آن لائن۔مانیٹرنگ ڈیسک) لاہورہائیکورٹ نے شوگر ملوں کی منتقلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملوں کی منتقلی کے حوالے سے ذاتی کاروبار کو قومی مفاد پر ترجیح دی گئی۔ پنجاب حکومت نے 2006ء میں نئی شوگر ملیں لگانے اور انہیں منتقل کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کپاس کے خطے میں شوگر ملیں نہیں لگائی جاسکتیں۔ اس لیے شوگر ملوں کی منتقلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی رشتے داروں کو لاہور ہائی کورٹ نے اپنی پانچ شوگر ملز نئے مقام پر منتقل کرنے سے روک دیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین، انڈس شوگر ملز اور آر وائی کے شوگر ملز کے مالکان نے 6 دسمبر 2006 کو پٹیشن دائر کی تھی جس میں موقف اختیار گیا گیا تھا کہ پنجاب انڈسٹریز (کنٹرول آن اسٹیبلشمنٹ اینڈ انلارجمنٹ) آرڈیننس 1963 کے تحت پابندی کے باوجود شریف خاندان پانچ شوگر ملز کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ شریف خاندان ملز کی منتقلی کی آڑ میں نئی شوگر ملز لگانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور انہوں نے 4 دسمبر 2015 کو اس حوالے سے انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفیکیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق چوہدری شوگر ملز، اتفاق شوگر ملز(ساہیوال)،حسیب وقار شوگر ملز (ننکانہ صاحب)، عبداللہ یوسف شوگر ملز (سرگودھا) اور عبداللہ شوگر ملز(دیپالپور) کے مالکان کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ ان یونٹس کو دیگر اضلاع میں منتقل کرسکتے ہیں۔درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ شریف خاندان نے پابندی کے باوجود شوگر ملز کی منتقلی کا اجازت نامہ حاصل کرلیا۔درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ ’یہ نوٹیفیکیشن نئی شوگر ملز کے قیام میں سہولت کاری اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لیے جاری کیا گیا جو شریف خاندان کی ملکیت ہیں‘۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اتفاق شوگر ملز کے مالکان نواز شریف، حسن نواز شریف، حسین نواز شریف، مریم نواز، کلثوم نواز، حمزہ شہباز وہ دیگر ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…