منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایرانی بندرگاہ چاہ بہار ،بھارت ایران کے ساتھ بھی ہاتھ کرگیا

datetime 7  اکتوبر‬‮  2016 |

نئی دہلی/دہلی(این این آئی)ایران کے درالحکومت تہران میں رواں برس موسم بہار میں ایران ، افغانستان اور بھارت کے رہنما اسٹریٹجک ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی تعمیر کے حوالے سے معاہدے کے لیے منعقدہ تقریب میں اکھٹے ہوئے تو انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ ان کی باہمی شراکت داری ’تاریخ بدل‘ دے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت نے تقریباً 13 برس قبل چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر میں تعاون کا اعلان کیا تھا لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کی تکمیل مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی اور جب اس بندرگاہ کا حال ہی میں دورہ کیا گیا تو معلوم ہو اکہ مرکزی جیٹی پر محض ایک بحری جہاز لنگر انداز ہے جبکہ سرکاری شپنگ کمپنی کے کارگو کنٹینرز بندرگارہ کے ساتھ منسلک سڑک پر جا بجا رکھے ہوئے دکھائی دیے۔ساتھ ہی موجود ایک ہاربر پر درجن کے قریب روایتی ماہی گیروں کی کشتیاں پانی میں کھڑی نظر آئیں۔مئی میں ہونے والی تقریب کے مہینوں بعد اور بھارت کی جانب سے چاہ بہار منصوبے پر 50 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے وعدوں کے باوجود چاہ بہار پورٹ پر کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ممبئی کی ایک ریسرچ تنظیم گیٹ وے ہاؤس کے تجزیہ کار سمیر پٹیل نے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے وعدوں پر ہمیں مسائل نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وعدہ کرنے کے بعد اس عمل کو آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، بھارتی بیوروکریسی اس پر عمل درآمد میں کافی وقت لگادیتی ہے۔چاہ بہار کامیابی کا ایک آسان ہدف ہونا چاہیے تھا کیوں کہ بھارت اپنے حریف ملک پاکستان میں چین کی شراکت داری سے بننے والے گوادر پورٹ کا مقابلہ اس بندرگاہ پر سرمایہ لگاکر کرسکتا ہے، ایران آبنائے ہرمز کے باہر اس طرح کی بڑی بندرگاہ کے ذریعے غربت کا شکار اپنے مشرقی خطے کو خوشحال کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے جبکہ افغانستان کو گہرے سمندر کے اس پورٹ تک روڈ اور ریل لنک ملے گا جس سے اس جنگ زدہ ملک کی معیشت بہتر ہوسکتی ہے۔لیکن ایک دہائی سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود بھارت کے لیے اسٹریٹجک اثاثے کا درجہ رکھنے والے اس پروجیکٹ کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے جبکہ چین 45 ارب ڈالر چین پاکستان اقتصادی راہ داری پر خرچ کررہا ہے جو گوادر سے جاکر ملتی ہے۔چاہ بہار فری ٹریڈ زون میں 37 سالہ چینی بزنس مین ڑینگ کے نے کہا کہ ’انہیں بندرگاہ کی تعمیر کا ٹھیکہ چین کو دینا چاہیے تھا اور پھر انتہائی قلیل مدت میں پورٹ تعمیر ہوکر مل جاتا۔نئی دہلی میں ایرانی سفارتخانے کے اکنامک سیکشن کے سربراہ حامد موسیٰ دیغی کے مطابق دونوں ملکوں کے لیے اس پروجیکٹ کے انتہائی اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود بھارت اور ایران دو برس تک صرف اس بات پر ہی الجھے رہے کہ بندرگاہ کے لیے ایران درآمد ہونے والے آلات پر 3 کروڑ ڈالر کی ایکسائز ڈیوٹی کون ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ پر سست روی انہی چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے ہے۔بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن اسمبلی اور پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ ششی تھرورنے کہاکہ’محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر چین اور پاکستان گوادر پورٹ بنارہے ہیں لہٰذا بھارت اس اہم بندرگاہ کی تعمیر میں سستی اور عدم توجہی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ایران میں بھارتی سفیر سوربھ کمار نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ’ہم دراصل یوریا، امونیا اور فرٹیلائزر پر انحصار کرتے ہیں اور چاہ بہار کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ان کے ٹرانسپورٹ اخراجات معقول حد تک کم ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…