جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

تیل کی قیمتیں ۔۔۔!ایران نے دستخط کر دئے

datetime 6  اکتوبر‬‮  2016 |

تہران(این این آئی)ایران میں قومی تیل کمپنی نے پہلے متنازعہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ مذکورہ معاہدہ تیل کے چشموں کو جدید اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے نئے (آئی پی سی)) معاہدوں کے سلسلے میں ایرانی کمپنی بریشیا کے ساتھ طے پایا ہے۔ یہ ان معاہدوں کی ایک کڑی ہے جو ایرانی وزارت تیل اور مغربی کمپنیوں کے درمیان طے پائے ہیں اور ان میں ایرانی آئین کی مخالف شقیں شامل ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے احتجاج کرنے والے اراکین کے نزدیک یہ معاہدے ایران اور اس کی تیل کی پالیسیوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق تنقید کرنے والے ارکان پالیمنٹ کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں کے تحت تیل کے چشموں کو پھر سے قابل استعمال بنانے ، ان کو جدید بنانے اور ان کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے کام کرنے والی غیرملکی کمپنیاں ان چشموں کے تیل کی فروخت میں سے اپنا حصہ حاصل کریں گی۔معاہدے کے تحت بریشیا کمپنی کی وساطت سے 2 ارب 20 کروڑ ڈالر سے اران ، مارون اور یوبال کے علاقوں میں تیل کی ذخیرہ اندوزی کے چار ٹینکوں کو جدید بنایا جائے گا۔بیس سال کے عرصے پر محیط اس معاہدے کے تحت مذکورہ چشموں کی مجموعی پیداوار میں 75 ہزار بیرل کا اضافہ ہوگا۔غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ دستخط کیے جانے والے معاہدوں نے ایران کے اندر وسیع جدل برپا کر دیا ہے جہاں تقریبا 50 غیرملکی کمپنیاں 20 سے 25 برس کے طویل عرصوں کے معاہدے طے کریں گی اور تیل نکالے جانے اور اس کے بعد بھی تیل کی پیداوار میں سے مقررہ حصہ حاصل کریں گی۔نئے نمونے کے معاہدوں جن کوآئی پی سی کا نام دیا گیا ہے، ان کے مطابق غیرملکی کمپنیاں چشموں کی کھدائی ، تیل نکالے جانے اور پیداوار مکمل ہونے کے بعد بھی تیل کی پیداوار میں شریک رہیں گی۔ حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ کے نزدیک یہ امر ایران کی تیل کی پالیسی کو مغرب کے زیرانتظام بنا دے گا جو کہ تیل کے قومیائے جانے سے قبل کے مرحلے کی جانب واپسی کے مترادف ہے۔ادھر حسن روحانی کی حکومت کا کہنا تھا کہ تیل کی منڈیوں کی موجودہ صورت حال اور قیمتوں میں مندی کے بیچ تیل کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو لانے کا کوئی اور طریقہ نہیں ۔ایران اپنی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ جنوری میں مغربی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد عالمی منڈی میں اپنا حصہ واپس لینے کی ایک کوشش ہے۔ ایران اپنی پیداوار کو پابندیوں سے پہلے کی سطح تک لے جانا چاہتا ہے جو یومیہ 38 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…