ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

چین گدھوں کی کھال کا کیا کرتا ہے، تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چین میں ادویات کی تیاری میں مسلسل استعمال ہونے کی وجہ سے گدھوں کی تعدادایک کروڑ 10 لاکھ سے کم ہو کر 60 لاکھ رہ گئی ہے جبکہ چینی ماہر چن یونگ فن نے چین کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہے ،وہ دواسازی کی صنعت کی سپورٹ کے لیے ملک میں گدھوں کی قلت کے بحران کو حل کرے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے تمام گدھوں کو خریدنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ انہیں طبی مصنوعات اور ادویہ سازی میں استعمال کیا جاسکے، بالخصوص جیلاٹن اور بعض امراض کے علاج کی دوائیں تیار کرنے کے لیے ، ان میں خون کی گردش کا مسئلہ ، چکر آنا ، خواتین میں ماہواری کے بے قاعدگی وغیرہ شامل ہیں۔
حکومت دواسازی کی صنعت کی سپورٹ کے لیے ملک میں گدھوں کی قلت کے بحران کو حل کرے اس کے علاوہ شدت کے ساتھ خون بہنے کو روکنے ، ادویات تیاری میں استعمال،چین میں گدھوں کی تعدادایک کروڑ سے کم ہو کر 60 لاکھ رہ گئیخون کی کمی دور کرنے اور خون کے خلیوں کی تعداد کم ہونے کی دوائیں تیار کی جاتی ہیں۔ چینی ماہر چن یونگ فن نے چین کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دواسازی کی صنعت کی سپورٹ کے لیے ملک میں گدھوں کی قلت کے بحران کو حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گدھے پالنے والوں کے لیے معاونت پیش کر کے انہیں سپورٹ کرے۔

واضح رہے کہ  اکستان میں صرف گدھے ہی زیر عتاب کیوں؟ پاکستان میں گدھوں کی آبادی 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ایک رپورٹ کے مطابق گدھا نجانے کیوں دنیا میں بدنام ہے اور رسواءزمانہ جانور کے نام سے گردانا جاتا ہے ورنہ بے چارہ انتھک محنت و مشقت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ زمانہ قدیم سے اس جانور کو مال برداری کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے صرف 4 ممالک گدھے کے گوشت کے سب سے زیادہ شوقتیں ہیں جن کا تعلق براعظم افریقہ سے ہے۔ یاد رہے کہ اس قبل بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں گدھوں کا گوشت پیچا جاتا رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…