جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

حیرت انگیز سائیکل جو کار کی رفتار سے چلے

datetime 28  فروری‬‮  2015 |

واشنگٹن: سائیکل ایسی شاندار سواری ہے کہ کوئی دوسری سواری قیمت اور استعمال کی آسانی میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اس کا ایک ہی مسئلہ اس کی کم رفتار ہے مگر اب امریکی موجد نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے اور رفتار میں بھی اس سواری کو کار کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔ منی آپلس سے تعلق رکھنے والے رچ کرو نفیلڈ نی ایک ایسی سائیکل تیار کر لی ہے کہ جس کی رفتار 160کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس حیرت انگیز سائیکل کا نام Raht Racerہے اور اس میں پیڈل ہائبرڈ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس کے پیڈل ایک چھوٹے جنریٹر سے جڑے ہیں اور یہ جنریٹر 20KWhکی ایک موٹر کو چلاتا ہے۔ موٹر کو کرنٹ ایک لیتھیم آئن بیٹری کے ڈریعے فراہم ہوتا ہے جسے جنریٹر چارج کرتا ہے۔

سائیکل سوار کو محض پیڈل گھمانے ہوں گے اور یہ آسامان سے باتیں کرے گی۔ اس انقلابی سائیکل کے موجد کا کہنا ہے کہ اگر درمیانی رفتار سے بھی پیڈل گھمائے جائیں تو بھی رفتار 48کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ سائیکل کی شکل خلائی گاڑی جیسی ہے اور اس کے تین پہیے ہیں۔ سوار کو مکمل طور پر کاربن فائبر کے بنے خول کے اندر ہو گا۔ اس میں دو سیٹیں ہیں اور کْل وزن تقریباً 260کلو گرام ہے۔ اس کی قیمت تقریباً 35ہزار ڈالر (تقریباً 35لاکھ پاکستانی روپے ) ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…