لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے روگردانی کے دھمکی دینے کے بعد پاکستان کےخلاف نئی سازش تیارکرلی ۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان کو بنجر بنانے کے لئے بھارت نے اگلے دس برس میں 225چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کر لی ۔بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کے تینوں دریاؤں پر ڈیم بنانے کیلئے پاکستان مخالف ممالک بھی اربوں ڈالر کی گرانٹ دینے کو تیار ہیں ۔بھارتی ”آبی حرب“منصوبے کی تکمیل سے پاکستانی دریاؤں میں پانی کی مقدار 58فیصد تک کم ہو جائے گی ۔پنجاب اور بلوچستان کے کئی اضلاع بنجر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا ۔بھارت نے ہمالیہ کے ہر بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ڈیم بنا نے کیلئے ماہرین کو ٹاسک دیدیا ہے ۔2020ءکے بعد بھارت ایٹمی جنگ کے بجائے ”واٹر وار “کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے کیلئے بلیک میلنگ کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا ۔پاکستان دس بڑے ڈیم بنا کر بھارتی منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے۔آبی ماہرین کاکہناہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کونئے ڈیم بنانے میں پاکستان اورعالمی بینک کی اجازت درکارہوگی ۔آبی ماہرین کاکہناہے کہ اگرسندھ طاس معاہدے کی بھارت نے پاسداری نہ کی توچین بھی بھارت کے لئے دریائوں کے پانی کوروکنے کےلئے ڈیمزتعمیرکرسکتاہے جبکہ اس وقت چین کومزیدڈیموں کی ضرورت بھی ہے ۔
پاکستان پر آبی حملے کا وار …بھارت ’’واٹربم ‘‘کیسے چلائے گا؟سازش بے نقاب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
موسم گرما کی سرکاری تعطیلات،حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
حملے کا خدشہ، سعودی عرب میں ہائی الرٹ
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
12 ربیع الاول کی چھٹی سے متعلق اہم خبر آگئی
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)



















































