اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سندھ طاس معاہدےکی دستاویز دیکھ کر مودی کی سِٹی گُم، معاہدے میں کیاکچھ ہے ،پڑھ کرآپ خوش ہوجائیں گے

datetime 27  ستمبر‬‮  2016 |

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت کی طرف سے پاکستان کاپانی روکنے کی دھمکی پرپاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے توڑے جانے کے بارے کوئی تشویش نہیں کیونکہ 1960ءمیں طے پانے والے معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے جو اس وقت بین الاقوامی بینک برائے قومی تعمیر نو تھا۔ایک انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق سندھ طاس معاہدے بارے مودی کی صدارت میں جو خفیہ اجلاس ہوا تھا اس کوپاکستانی ماہرین نے بھی مانیٹر کیاتھا اور صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں چونکہ عالمی بینک ، چین ،روس سمیت کئی اہم ممالک معاہدے کے ضامن ہیں‘ اس لئے بھارت اس میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا۔ بھارت اس میں تبدیلی کیلئے پاکستان کو ساتھ لئے بغیر عالمی بینک سے بھی رجوع نہیں کرسکتا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنے کا ارادہ ہی ترک کردیا ہے۔ اب اس نے پالیسی تبدیل کرلی ہے‘ جس کے تحت پاکستان کے زیرکنٹرول دریاؤں سندھ‘ چناب اور جہلم کا زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرے گا تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ وزیراعظم مودی نے معاہدہ کی دستاویز دیکھی تو ان کی سٹی گم ہوگئی۔معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان کا دیرینہ دوست چین اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ دریائے سندھ کا سرچشمہ چین کے علاقے میں ہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چین بھارت کو پہلے ہی یہ پیغام دے چکا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والے کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ چین کے مطابق معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں چین سندھ اور ستلج کے دریاؤں کا پانی بھارت کی طرف جانے سے روکنے میں آزاد ہو گا۔ معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں چین دریائے سندھ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ اس سے بھارت دریا کے 36فیصد بہاؤ سے محروم ہو جائے گا۔اس صورتحال میں بھارتی وزیراعظم نے اب متبادل کے طورپرسوچناشروع کردیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…