جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

وزیراعلی شہبازشریف کی ایسی زبان میں گفتگوکہ اہم یورپی ملک کے صحافی ہکابکارہ گئے

datetime 25  ستمبر‬‮  2016 |

لاہور(آئی این پی)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جرمن میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے ملاقات کے دوران روانی کے ساتھ جرمن زبان میں گفتگو کی اور اہم امو رپر جرمن زبان میں مدلل انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی جرمن زبان پر دسترس پر جرمن صحافیوں نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ جرمن زبان پر آپ کی دسترس سے ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ نے جرمن زبان میں گفتگو کرکے ہمیں بھی حیران کردیا ہے۔ جرمن صحافیوں نے پنجاب کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جاری پروگرامز کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ترقی قابل مثال ہے اور یہ ترقی ہم نے خود دیکھی ہے۔ آپ صحیح معنوں میں محنتی اور باصلاحیت وزیراعلیٰ ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ میں نے جرمنی میں قیام کے دوران میں نے جرمن زبان سیکھی اور اس سے ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والے جرمن صحافیوں میں مینجنگ ایڈیٹر’’ڈیر ٹیگس پیجل‘‘ (Der Tagesspiegel) انگرڈ میولر(Ms. Ingrid Muller) ، ’’ڈوئچے ویلے‘‘ (Deutsche Welle) کے سیاسی امور کی ماہر نومی کونارڈ(Ms. Naomi Conrad) ، خارجہ و سکیورٹی امور کے ماہرصحافی ڈینیئل ڈیلن پیٹر بومر (Mr. Daniel Dylan Peter Bohmer) اور دیگر شامل تھے۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…