منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

باغی پاکستانی سیاستدان کی’ ’پناہ ‘‘ کا فیصلہ۔۔۔بھارت نے فیصلہ سنادیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2016 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کردی کہ انہیں بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی کی انڈین شناختی کارڈ اور سفری دستاویز کے حوالے سے درخواست موصول ہوگئی جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق براہمداغ بگٹی کی درخواست وزارت خارجہ امور کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی ہے۔ہندوستانی وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا تاہم براہمداغ بگٹی کی درخواست پر جلد از جلد کارروائی مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریت حاصل کرنے سے قبل براہمداغ بگٹی کو متعدد تصدیقی مراحل سے گزرنا ہوگا اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی خود کریں گے۔اخبار کے مطابق یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور وزارت داخلہ کے حکام سیاسی پناہ دینے کے عمل کا طریقہ کار کو چیک کرنے کے لیے 1959 کے ریکارڈز چھان رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ہندوستان نے آخری بار 1959 میں تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کی پناہ کی درخواست مں ظور کی تھی اور اس وقت وزیر اعظم جواہر لال نہرو تھے۔ رپورٹ کے مطابق براہمداغ بگٹی اس وقت سوئٹزرلینڈ میں ہیں جہاں سے وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں چلا رہے ہیں جبکہ انہوں نے منگل 20 ستمبر کو جنیوا میں مستقل انڈین مشن کو پناہ کی درخواست جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے کسی مقامی قانون میں لفظ ’ ری فیوجی‘ کا ذکر نہیں اور نہ ہی اس نے اقوام متحدہ کے ری فیوجی کنونشن 1951 یا اس کے 1967 پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں جس میں تارکین وطن کے حوالے سے میزبان ملک کے فرائض کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
براہمداغ بگٹی بلوچ ری پبلکن پارٹی کے بانی و صدر ہیں اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں جو 2006 میں ایک فوجی کارروائی میں مارے گئے تھے۔اخبار کے مطابق پاکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ 2010 میں براہمدا غ بگٹی کو جنیوا فرار ہونے میں ہندوستان نے مدد دی۔ہندوستانی وزارت داخلہ کے عہدے دار نے بتایا کہ اگر براہمداغ بگٹی کی پناہ کی درخواست منظور ہوگئی تو انہیں طویل المعیاد ویزا جاری کیا جائے گا جس کی تجدید ہر سال کرنی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ انہیں رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ جاری کردیا جائے جس کی بناء4 پر وہ کہیں بھی سفر کرسکتے ہیں۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…