ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بڑا حکم جاری کردیا،تیاریاں شروع

datetime 22  ستمبر‬‮  2016 |
راولپنڈی(این این آئی )آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مزید 7 خطرناک دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی، مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں اور فرقہ ورانہ قتل سمیت دہشتگردی کی مختلف وارداتوں میں ملو ث تھے ، دہشتگردوں کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا تھا ، آرمی چیف کی توثیق کے بعد دہشتگردوں کو کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو7 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی انہیں فوجی عدالتوں سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ دہشتگرد بے گناہ شہریوں ، پولیس اہلکاروں اور مسلح افواج کے اہلکاروں کے قتل سمیت دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث تھے ۔ مذکورہ دہشتگرد فرقہ ورانہ قتل کی وارداتوں میں بھی ملوث تھے ۔ دہشتگردوں کے قبضے سے آتشیں اسحلہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا تمام دہشتگردوں کیخلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے ۔ اس حوالے سے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق تین دہشتگرد محمد قاسم طوری ولد محمد فاروق، عابد علی ولد محمد رمضان اور محمد دانش ولد نور بخش مختلف کالعدم تنظیموں کے ارکان نے اور یہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں ملوث تھے جن کے نتیجہ میں انسپکٹر علی اصغر داہری ، ہیڈ کانسٹیبل راجہ طارق کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ دو دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ مذکورہ دہشتگردوں کے قبضہ سے آتشیں اسلح اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ۔ تینوں کی موت کی سزا سنائی گئی۔ دو دہشتگرد سید جہانگیر حیدر ولد سید کرم حیدر اور ذیشان ولد مرید عباس فرقہ ورانہ قتل اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کے حملے میں ملث تھے ۔ ان کے قبضہ سے بھی آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا انہوں نے عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ان دونوں کو بھی موت کی سزا سنائی گئی۔ دو دہشتگرد معتبر خان ولد پروانت خان اور رحمان الدین ولد معمبر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے فعال رکن تھے یہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں ، مسلح افواج پر حملوں اور امن کمیٹی کے ایک رکن کے قتل میں ملوث تھے ان کے قبضہ سے بھی آتشیں اسحلہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا انہوں نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور انکو موت کی سزا سنائی گئی۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے مذکورہ دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کے بعد انہیں کسی بھی وقت پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…