منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

بھارت کوایک اور بڑاجھٹکا،اہم یورپی ملک کے دفترخارجہ کااہلکارگرفتار۔۔۔دنیانے انڈیا کاایک اورچہرہ دیکھ لیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2016 |

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک )جرمن دفتر خارجہ کے ایک ایسے اہلکار کے خلاف مقدمے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ جرمنی میں رہنے والے سکھوں کی معلومات بھارت کی خفیہ ایجنسی کو فراہم کر رہا تھا۔ اس کیس نے جرمن حکام کو بھی حیران کر دیا ہے۔ایک جرمن خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کے وفاقی وکلائے استغاثہ کا کارلزروہے کی عدالت میں کہنا ہے، ’’ہمیں یہ قوی شک ہے کہ ملزم کی خفیہ سرگرمیاں اپنے شعبے میں رازداری کے قانون کے منافی ہیں اور ملزم نے مجموعی طور پر پنتالیس مرتبہ ایسا کیا ہے۔‘‘۔پکڑے جانے والے جاسوس جوکہ دفترخارجہ میں کام کررہاتھااس کی عمر58برس ہے وہ بھارت چھوڑکرجرمنی آیااوریہاں پرجرمن دفترخارجہ میں ملازمت کرکے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو ان افراد کی معلومات فراہم کیں، جو بھارت چھوڑ کر جرمنی میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی نے جرمن اہلکار کو یہ احکامات دے رکھے تھے کہ وہ ان بھارتیوں کی معلومات ان کو فراہم کرے، جن کا تعلق حکومتی اپوزیشن سے ہے اور ان سکھ مذہبی گروپوں کی بھی، جو بھارت کے خلاف بات کرتے ہیں۔اس شخص کو فروری دوہزارسولہ میں اسے گرفتارکیاگیااورتحقیقات شروع کی گئیں بتایا گیا ہے کہ ملزم کی رسائی جرمنی کے معلوماتی پروگرام تک تھی اور اسی کا اس نے غلط استعمال بھی کیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اٹھاون سالہ ملزم دفتر خارجہ کے ایک مرکزی دفتر میں کام کرتا تھا اور رواں برس فروری میں ہی اسے حراست میں لیتے ہوئے اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ملزم کے خلاف یہ مقدمہ ریاستی سکیورٹی ڈویژن کی سفارش پر قائم کیا گیا ہے۔ ابھی تک ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملزم نے یہ معلومات فراہم کرنے کے عوض بھارت کی خفیہ ایجنسی سے کیا مراعات حاصل کی ہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں ایک بھارت جاسوس کی جرمنی میں گرفتاری کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے جبکہ بھارت کوپہلے ہی مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے مظالم کی وجہ سے دنیامیںرسوائی کاسامناہے اوراس وقت اسکے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان سے بھی تعلقات کشیدگی کی انتہاپرہیں اوراس سے بھارتی سفارتکاری کوبھی شدیدنقصان پہنچے گا۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…