بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ساڑھے 6 کروڑ سے زائد لوگوں ڈیٹا چوری ہو گیا کہیں آپ بھی ان میں شامل تو نہیں؟ تفصیلی خبر آ گئی

datetime 4  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس کے 6کروڑ سے زائد صارفین کا ڈیٹا ہیک کر لیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آن لائن ڈیٹا سٹوریج کمپنی ڈراپ باکس انتظامیہ نے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے 6 کروڑ 80 لاکھ صارفین کے ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈ چوری کرلیے گئے ہیں جنہیں ہیکرز نے انٹرنیٹ پر کھلے عام رکھ دیا ہے اور کوئی بھی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ڈراپ باکس کے مطابق یہ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز غالباً 2012ء میں چرائے گئے تھے لیکن انہیں 2 ہفتے پہلے ہی انٹرنیٹ پر عام کیا گیا ہے۔ کمپنی کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ان چوری شدہ پاس ورڈز اور ای میل ایڈریسز کے ذریعے کوئی غیرقانونی طور پر اس کے نیٹ ورک میں داخل ہوا بھی ہے یا نہیں۔ہیکنگ کی اس واردات کے بعد ڈراپ باکس نے معذرت کرتے ہوئے اپنے صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈز جلد از جلد تبدیل کرلیں تاکہ کسی کو ان کے ڈراپ باکس اکاونٹ میں داخل ہونے اور ان کے حساس ڈیٹا تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکے۔آن لائن ڈیٹا سٹوریج جسے ’’کلاویڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، صارفین کو انٹرنیٹ پر اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سہولیات وغیرہ پر مشتمل ہے۔
اس نوعیت کی خدمات گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت دوسری کئی کمپنیاں فراہم کررہی ہیں مگر اس میدان میں ڈراپ باکس ایک پرانا اور قابلِ اعتماد نام ہے۔ڈراپ باکس کے ذریعے ایسی بڑی ڈیجیٹل فائلز بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہیں جو عام طور پر ای میل کے ساتھ منسلک نہیں کی جاسکتیں۔ ڈراپ باکس کی کچھ خدمات مفت ہیں لیکن ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ فیس دے کر بنائے جانے والے ’’پریمیم اکاونٹ‘‘ میں آن لائن ڈیٹا سٹوریج اور شیئرنگ سمیت دوسری سہولیات بھی دستیاب ہیں۔صارفین کے 6 کروڑ 80 لاکھ ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز چوری ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ صارفین کے حساس ڈیٹا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر بیشتر کمپنیاں اپنے صارفین پر پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنے اور موبائل نمبر فراہم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیتی رہتی ہیں تاکہ اگر کوئی ہیکر پرانے پاس ورڈ کو چ177را لے تب بھی فون نمبر کے ذریعے پاس ورڈ ری سیٹ کیا جاسکے۔اس سارے معاملے کا واحد اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ تمام پاس ورڈز 4 سال پرانے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس دوران بیشتر صارفین نے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیے ہوں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…