منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

بچے خوش اور کامیاب زندگی کیسے گزار سکتے ہیں ؟والدین کے لئے ماہر نفسیات کے شاندار مشورے

datetime 3  ستمبر‬‮  2016 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر کے والدین کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے خوش و خرم زندگی گزاریں اور اپنی زندگی کے ہر مقام پر خود اعتماد اور کامیابی سے ہم کنار ہوں مشہور ماہر نفسیات کارل پکارڈ نے والدین کی اس خواہش کے مد نظر چند شاندار مشورے مرتب کئے ہیں جو کہ پاکستانی والدین کے لئےبھی پیش خدمت ہیں ۔امریکی جریدے سائیکالوجی ٹوڈے نے پروفیسر کارل ای پیکارڈ کا ایک انٹرویو شائع کیا ہے جس میں انہوںنے والدین کو چند مفید مشوروں سے نوازاہے۔
ہمیشہ بچوں کی تعریف کی جائے چاہےوہ کامیاب ہوں یا ناکام مگر ان کی محنت اور کوشش پر انہیں بھرپور طریقے سے سراہا جائے ۔
بچوں کو ہمیشہ موقع فراہم کیا جائے کہ وہ مسائل کے بارے میں خود جان سکیں ۔کوشش کریں کہ آپ انہیں اس بات سے آگاہ نہ کریں کہ مسئلہ کیا اور کہاں ہے بلکہ انہیںمسئلہ خود تلاش کر کے اس کے حل کے بارے میں سوچنے کا موقع دیں۔
بچوں سے کبھی بھی یہ امید نہ رکھیں کہ وہ بڑوں کی طرح عمل کریں گے، بچے ہمیشہ اپنی عمر کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں اس حقیقت کو ہمیشہ مد نظر رکھئے ۔
بچوں میں تجسس کا مادہ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ان کے تجسس کی خواہش کی پزیرائی کریں ۔ اگر وہ کسی چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس موضوع پر ان کی مدد کریں ، کبھی ان کو کسی چیز کی تلاش سے مت روکیں، بصورت دیگر ان کے اعتماد کو نقصان پہنچے گا۔
بچوں کو ہمیشہ نئے سے نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے رہیں اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی تربیت فراہم کریں اور حوصلہ افزائی کریں ۔
بچوں کو ہمیشہ کسی بھی مقام تک پہنچنے کے لئےمختصر راستہ اپنانےکی حوصلہ افزائی مت کریں ،بلکہ صحیح طریقے سے اور قانونی دائرے میں رہ کر منزل اور راستے کی تلاش کرنا سکھائیں۔
بلا وجہ تنقید سے گریز کریں ، بلا وجہ تنقید سے بچوں کو آسان کاموں میں مشکل محسوس ہوتی ہے اور وہ آسان کام کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔
بچوں کو ہمیشہ موقع دیں کہ وہ کچھ نیا کریں ۔ انہیں ہمیشہ کسی نہ کسی نئی چیز کے بارے میں بتائیں جو اس سے پہلے انہیں معلوم نہ ہو۔
اگر کسی موقع پر آپ بچوں کے لئے پریشان ہوںتو انہیں اس بات کی خبر نہ ہونے دیں بلکہ اپنے عمل سے ان کو یہ باور کروائیں کہ آپ انہیں بااعتماد دیکھنا چاہتے ہیں ۔
مشکل صورتحال میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اس بات کا یقین دلائیں کہ وہ مشکل کام بھی آسانی سے کر سکتے ہیں۔
انہیں اپنے مکمل مدد فراہم کریں مگر کبھی بھی اس حد تک نہ جائیں کہ وہ مکمل طور پر آپ پر ہی انحصار کرنا شروع کر دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…