منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ملیریا کی دوا انسان کیلئے نئی آفت ، سابق آرمی چیف نے متنازعہ دوا کے استعمال کی اجازت دینے پر معافی مانگ لی

datetime 31  اگست‬‮  2016 |

لندن (نیوز ڈیسک)برطانیہ کے سابق آرمی چیف نے فوج میں ملیریا کے خلاف متنازع دوا کے استعمال کی اجازت دینے پر معذرت کی ہے۔ لارڈ ڈینٹ کا کہنا ہے کہ وہ بذات خود اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لاریم دوا کے دماغ پر اثرات کسی ’آفت‘ سے کم نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے تسلیم کیا وہ خود ملیریا سے بچنے کے لیے لاریم استعمال نہیں کرتے۔فوج کے سابق سربراہ لارڈ ڈینٹ نے کہا کہ اْن کے بیٹے نے یہ دوا استعمال کی تھی جس کے بعد وہ شدید ’دباؤ‘ کا شکار ہو گیا تھا۔وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’تعینات افواج کی اکثریت کو پہلے ہی سے لاریم کا متبادل فراہم کر دیا گیا ہے۔لارڈ ڈینٹ نے بتایا کہ نوے کی دہائی میں افریقہ جانے سے پہلے ملیریا کے علاج کے لیے اْن کے بیٹے کو لاریم کی دو خوراکیں دی گئیں جس کے بعد وہ شدید دماغی مسائل کا شکار ہو گیا۔انھوں نے بتایا کہ اْن کا بیٹا اْس وقت فوج میں نہیں تھا لیکن اپنے والد کے فوجی ڈاکٹر کی تجویز پر ان کو لاریم دی گئی تھی۔گو کہ فوج میں اسے ملیریا سے بچنے کی اہم دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا لیکن وزارتِ دفاع کے ڈاکٹروں نیاپریل 2007 سے مارچ 2015 کے دوران 17 ہزار فوجیوں کو لاریم تجویز کی تھی۔لارڈ ڈینٹ سنہ 2006 سے 2009 کے دوران فوج کے سربراہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس دوا کے بہت زیادہ منفی اثرات ہیں جن میں ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات بھی شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ بطور فوج کے سربراہ اس مسئلے کو ترجیہی بنیاد پر تسلیم نہ کرنے پر وہ اْن فوجیوں سے جنھیں لاریم دی گئی ’معافی مانگنا‘ چاہتے ہیں۔جب اْن سے یہ پوچھا گیا کہ اْن کے دور میں لاریم دوا زیادہ کیوں تجویز کی گئی تو انھوں نے کہا کہ اْس وقت تک وزارتِ دفاع اس نتیجے پر نہیں پہنچی تھی کہ آیا لاریم زیادہ فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ایک برطانوی فوج نے بتایا کہ سنہ 200 میں سیئرا لیون کے دورے کے وقت انھیں لاریم دی گئی اور وہ ابھی تک اس دوا کے منفی اثرات کو محسوس کرتے ہیں۔اْن کا کہنا ہے کہ ’اس کا اثر فوری تھا۔ میں میلا اور پرتشدد ہو گیا تھا اور میں اس کا ذمہ دار اس دوا کو ٹھہراتا ہوں۔‘لاریم دوائی بنانے والی ادویات ساز کمپنی روش کا کہنا ہے کہ وہ ’مستقبل میں بھی وزارتِ دفاع کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لاریم کی تجویز سے پہلے اس کے بارے میں مکمل معلومات میسر ہوں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…