جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ایم کیو ایم نے اپنے دفاتر میں کیا کچھ پال رکھاتھا؟ ناقابل یقین انکشافات

datetime 29  اگست‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)ایم کیو ایم کے دفاتر میں موجود جانوروں میں مگر مچھ، ہرن، فش ایکوریم اور مختلف اقسام کے پرندے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک سیکٹر آفس میں شیر کو بھی رکھا گیا ہے۔ کراچی کے علاقہ کورنگی میں ایم کیو ایم کے سیکٹر آفس پر چھاپہ کے دوران 5 مارخور برآمد کرلیے گئے ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات نے مارخوروں کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔گذشتہ کچھ دن سے ایم کیو ایم کے سیکٹر دفاتر کو منہدم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ روز کورنگی میں بھی ایک سیکٹر آفس کو منہدم کیا گیا جہاں سے 5 مارخور برآمد کیے گئے۔محکمہ جنگلی حیات نے ان مارخوروں کو اپنی تحویل میں لے کر سپر ہائی وے پر قائم ایدھی اینیمل ویلفیئر منتقل کردیا۔مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور افغانستان کے شمالی علاقوں، جنوبی تاجکستان، ازبکستان، کشمیر اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں پایا جاتا ہے۔مارخور خطرے کا شکار جانوروں کی فہرست میں شامل ہے اور اسے معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین کے طابق اگر مارخور کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس کی نسل مکمل طور پر معدوم ہوجائے گی۔تاہم پاکستان میں اس کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے باعث پچھلے عشرے کی نسبت اس کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ اب پاکستان میں تقریبا 3ہزار سے زائد مار خور موجود ہیں۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے اکثر سیکٹر دفاتر میں جانور موجود ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ سیکٹر انچارجز جانور پالنے کے شوقین ہیں۔ ان میں سرفہرست کورنگی کے سابق سیکٹر انچارج اور شاہ فیصل کے سیکٹر انچارج شامل ہیں۔ان سیکٹر انچارجز نے مشرف دور میں کراچی میں قائم کیے گئے منی زو کے لیے منگوائے گئے جانوروں کی لاٹ میں سے کچھ جانور سیکٹر آفس میں رکھ لیے تھے۔ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی کا فیڈرل بی ایریا میں اپنا منی زو ہے جو بعد ازاں انہوں نے مقامی حکومت کے حوالے کردیا۔ایم کیو ایم کے دفاتر میں موجود جانوروں میں مگر مچھ، ہرن، فش ایکوریم اور مختلف اقسام کے پرندے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک سیکٹر آفس میں شیر کو بھی رکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…