بدھ‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2025 

مولانا فضل الرحما ن شدید مشتعل،راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے،حکومت سندھ کو انتباہ کردیا

datetime 21  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت سندھ کو انتباہ کیا ہے کہ مدارس اور دینی اداروں کے خلاف امتیازی قوانین بنانے سے گریز کیا جائے بصورت دیگر علماء اور مذہبی طبقہ راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جو لوگ مدارس کو نشانہ بناتے ہیں، دراصل وہ بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں اگر متعصبانہ قوانین بنا کر پریشان کرنے کی کوشش کی گئی تو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، جمعیت علماء اسلام صرف ایک مکتبہ فکر کی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی قومی اسمبلی میں ترجمانی کرتی ہے۔ ہم دنیا میں سیات کرتے ہیں، کسی مخصوص مسلک کے لئے نہیں بلکہ انسانیت کے لئے کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو جمعیت علماء اسلام کراچی کے تحت جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن کورنگی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے مولانا عبدالصمد ہالیجوی، مولانا راشد محمود سومرو، مولانا امجد خان، قاری محمد عثمان، مولانا عبدالحق عثمانی، اسلم غوری، مولانا غیاث الدین سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب باطل قوتیں آپ کی مخالفت میں ہوں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا شمار اہل حق میں ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی اصولوں اور قوانین پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور جذبات میں آکر کوئی غیر قانونی کام کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت تدبر اور حکمت سے کام لینے کا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے 100 سال پورے ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں اپریل میں پشاور میں کانفرنس رکھی گئی ہے اور تمام لوگ اس میں بھرپور شرکت کرکے علمائے حق کے خادم ہونے کا ثبوت دیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج بعض قوتیں مدارس کو نشانہ بنا رہے ہیں حالانکہ کے مدارس نے ہی ہمیشہ رجال کار پیدا کئے ہیں۔ ہم پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں مگر آئے روزحکمرانوں کے اقدام اور قوانین ہم کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر سندھ حکومت نے علماء اور اہل مدارس کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ طور پر کوئی قانون بنانے کی کوشش کی تو ہم اسے مسترد کردیں گے۔ میں انتباہ کرتا ہوں کہ جمہوریت کی آڑ میں مدارس میں آمریت مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ ہم ایسی ہر کوشش کو تار تار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے حکومت کرنی ہے تو ہمیں خوش رکھنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہماری حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہم موجود نہیں تھے لیکن حقوق نسواں کے نام سے بل پیش کیا گیا اور میں نے پنجاب میں مورچہ لگایا اور پھر حکومت کو بل واپس لینے پر مجبور کیا کیونکہ وہ قرآن وسنت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اسی طرح ایسی صورت حال پشاور میں پیدا ہوئی اور ہماری کوششوں سے وہ بھی ناکام ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیں اس ملک میں ایسے قوانین بنانا چاہتی ہیں جن میں مسلمان اور علمائے حق کا رہنا اور کام کرنا محال ہو لیکن ہم ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے کہا کہ حال ہی میں حلال فوڈ اتھارٹی کے نام پر قانون سازی کی جارہی تھی جس میں کئی شقیں قرآن وسنت کے خلاف تھیں اور ہم نے ان شقوں کو نکلوادیا۔ تب ہی وہ قانون بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ میں حکومت کا اتحادی ہوں۔ ہاں میں حکومت کا اتحادی ضرور ہوں لیکن میں نے نظریات کا سودا کیا ہے تو مجھے بتایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے خلا ف قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔ طاقت کے طور پر مسلط کیا گیا تو ہر صورت روکیں گے۔ حکومت سندھ ہم سے مشاورت کرے۔ مشاورت کے بغیر بنایا گیا قانون مدارس پر نافذ نہیں کرنے دیں گے۔ عوام اس بات پر یقین رکھیں کہ کسی کو بھی شریعت اور مدارس کے خلاف قانون منظور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ پشاور میں ہونے والی صد سالہ کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے جب وسیع النظر ہو کر سوچا تو آج پورے ملک کی مقبول جماعت بنی ہے۔ بڑی جدوجہد کے بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کو بڑی کامیابی ملی۔ ورکرز کنونشن میں کراچی شہر سے جمعیت علماء اسلام کے تمام ذمہ داران نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نارمل ملک


حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…

بخارا کا آدھا چاند

رات بارہ بجے بخارا کے آسمان پر آدھا چاند ٹنکا…

سمرقند

ازبکستان کے پاس اگر کچھ نہ ہوتا تو بھی اس کی شہرت‘…

ایک بار پھر ازبکستان میں

تاشقند سے میرا پہلا تعارف پاکستانی تاریخ کی کتابوں…

بے ایمان لوگ

جورا (Jura) سوئٹزر لینڈ کے 26 کینٹن میں چھوٹا سا کینٹن…

صرف 12 لوگ

عمران خان کے زمانے میں جنرل باجوہ اور وزیراعظم…

ابو پچاس روپے ہیں

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ…

ہم انسان ہی نہیں ہیں

یہ ایک حیران کن کہانی ہے‘ فرحانہ اکرم اور ہارون…

رانگ ٹرن

رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…