جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

با ب دوستی پر حملے میں کو ملو ث نکلا حقیقت جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

datetime 21  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) سنیئر دفائی تجریہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ چمن میں افغانستان سے متصل پاک افغان بابِ دوستی پر مظاہرین کی جانب سے حملے اور پاکستانی پرچم کو نذرآتش کرنے کے واقعہ میں بھارتی عناصر ملوث تھے جو کہ وہاں انڈیا کی ہی زبان بولتے ہیں۔ایک انٹرویو میں امجد شعیب نے کہا کہ اس واقعہ میں مظاہرین کو پیچھے سے مدد حاصل تھی کیونکہ یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں کیا گیا جوکہ بلاجواز تھا ٗحملے کے بعد دونوں ممالک کی سرحد پر جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے وہ صرف اسی صورت کم ہوسکتی ہے جب افغان حکام پاکستان سے اس پورے واقعہ پر معافی مانگیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح کسی وجہ کے بغیر حملہ کیا گیا تو اس پر معافی بھی بہت معمولی سی بات ہوگی اور جو لوگ بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سزائیں دی جانی چاہئیں۔
امجد شعیب نے کہاکہ واقعہ کے بعد پاکستانی اہلکاروں نے مظاہرین پر جوابی کارروائی کرنے سے اجتناب کیا تاہم اگر یہی کام ہماری طرف سے کیا جاتا تو اب تک کئی مظاہرین ہلاک ہوچکے ہوتے۔انھوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جب 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ ہوا تو پاکستان نے 3 ماہ آمد و رفت کو بند رکھا جس کے بعد امریکا کو بھی اس پر پاکستان سے معافی مانگی پڑی تھی۔انہوں نے کہاکہ سفارتی تعلقات میں ایسا ہوتا ہے کہ جب اس طرح کے واقعات ہوں تو آپ کو اپنے قومی مفادات کی خاطر معافیاں بھی منگوانی پڑتی ہیں اور دوسری طرف سے معافی بھی مانگنی پڑتی ہے۔دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب نے کہا کہ افغانستان کو اس معاملے میں پاکستان کے موقف کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…