اسلام آباد/لاہور( این این آئی )پاکستان میں اب علاج کا تصور بھی ممکن نہیں رہے گا،کیا ہونے والا ہے؟ لرزہ خیز خبر سنادی گئی،ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کے 30اگست کو ہونے والے اجلاس میں ادویات کی قیمتوں میں تاریخی 900 فیصد تک اضافہ کی منظوری دیئے جانے کا امکان ہے ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کے اجلاس میں 507ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری متوقع ہے اوپیفین نامی دوا کی قیمت 70 روپے سے بڑھاکر 650روپے ،انڈوبیڈ نامی دوا کی قیمت 261سے بڑھا کر615روپے جبکہ پیری جیکس کی قیمت 300سے بڑھاکر 675روپے کرنے پر غور ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ شازونیول کی قیمت 234روپے سے بڑھا کر 600روپے ہونے کا امکان ہے ،ہیمو ایمنوگلوبین کی قیمت 1100سے بڑھاکر 7200روپے ،ایباڈرون کی ایک ٹیبلٹ 385کی بجائے 2000روپے مقرر کرنے جبکہ طاقت کا سیرپ 56روپے سے بڑھاکر 340روپے ،فولک ایسڈ 30روپے کی بجائے 150روپے کرنے پر بھی غور ہوگا ،پینٹوتھال انجکشن کی قیمت 1700کی بجائے 3658روپے کرنے کی منظوری ایجنڈا میں شامل ہے ،ایتھی کون کی قیمت بھی 6412روپے کی بجائے 39ہزار 739روپے کرنے کی بھی منظوری ہونے کا امکان ہے۔
آئی این پی کے مطابق ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کا اجلاس 30اگست کو طلب کر لیا‘ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے متعلق اہم فیصلے متوقع ۔ذرائع کے مطابق دوا ساز کمپنیوں نے ادویات دو سے 8گنا مہنگی کرنے کی سفارش کی ہے جس پر ڈر گ پرائسنگ کمیٹی کا اجلاس 30اگست کو طلب کر لیا گیاہے جس میں قیمتوں میں اضافے سے متعقل اہم فیصلے متوقع ہیں ۔اجلاس میں دوا ساز کمپنیوں کی درخواستوں پر غور کیا جائے گا ،امراض قلب ،جگر ،گردے ،سردرد کی ادویات مہنگی ہونے کا امکان ہے ادویات ساز کمپنیوں نے اپنی درخواستوں میں انہیلر ،انجیکشنز ،اینٹی بائیوٹکس بھی مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ ٹانکوں کیلئے استعمال ہونے والی وائر کی قیمت چھ سے چالیس ہزار کرنے اور بہیوشی کے انجیکشن 1700سے 3658روپے کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔
لاہور(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما انجینئر یاسر گیلانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی گڈ گورننس خوردبین سے بھی نظر نہیں آ رہی ملکی اور غیر ملکی فارماسوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے ادویات کی قیمتوں میں ازخود50 سے تین سو فیصد اضافہ متعلقہ اداروں کی نااہلی اور بروقت ایکشن نہ لینے کا شاخسانہ ہے جبکہ فارماسوٹیکل کمپنیاں اور ڈاکٹرز وزارت صحت کے متعلقہ اداروں کی نااہلی کے باعث 2ارب روپے ماہانہ تک منافع کما رہے ہیں غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے بغیر ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ حکمرانوں کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ شہریوں پر 2 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ وفاقی وزرات صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ملک میں ادویات کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں بْری طرح ناکام ہو گئی ہے حکومت اس مافیا کیخلاف سخت اقدامات کرکے اپنی مضبوط رٹ کا تاثر قائم کرے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ فارماسوٹیکل کمپنیاں حکومت کی اجازت کے بغیر ادویات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرکے غریب شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں۔