لاہور(این این آئی ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سیاسی جماعتوں کی اجتماعی رائے ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ملایا جائے اور ان کی محرومیوں کے ازالے کے لیے ایک بڑا وفاقی پیکیج دیا جائے ، پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں نے قبائلی علاقوں کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،آپریشن ضرب عضب سے بڑی حد تک امن قائم ہواہے ،اس کی تحسین کی جانی چاہیے، مگر اس کے لیے مقامی آبادی کو جن مصائب سے گزرنا پڑا،ان کا اعتراف کرنا اور صلہ دینا بھی ضروری ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کو فاٹا میں ریفارمز کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں ۔ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا قومی ضرورت ہے ۔ فاٹا ریفارمز کے بغیر آپریشن ضرب عضب نامکمل ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی نظریں اب بھی قبائلی علاقوں پر لگی ہوئی ہیں اور وہ انتشار پھیلانے کا موقع تلاش کررہاہے ۔ ان حالات میں اسلام آباد سے ان پر کوئی چیز مسلط کرنا ان کے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وہاں ایک منتخب باڈی ہونی چاہیے اور اس باڈی کو معاشی اختیارات بھی حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے انصاف کے دروازے بند ہیں وہا ں عدالتی نظام قائم کیا جائے ۔ قبائلی عوام نے ہمیشہ پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں مگر ان علاقوں کی ایک کروڑ آبادی کے لیے تعلیم ا ورصحت کی کوئی سہولت نہیں ۔ کوئی بڑا تعلیمی ادارہ ہے اور نہ ہسپتال ۔ خواتین کی شرح تعلیم صرف تین فیصد ہے اس لیے ضروری ہے کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کے لیے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہمیں نئی نسل کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دینی چاہیے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں ۔ عالمی میڈیا نے قبائلی عوام کو دہشتگرد قرار دے کر بدنام کیاہے ۔ قبائلی عوام ہمیشہ پاک افغان بارڈر کے محافظ رہے ہیں ۔ عالمی سازشوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پرسکون بارڈر کو گرم بارڈر میں تبدیل کردیاہے جہاں ہماری دو لاکھ فوج مصروف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خطے کو پرامن بنانے کے لیے مقامی لوگوں سے مشاورت کی ضرورت ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے فاٹا میں بڑے تجارتی مراکز اور مارکیٹیں بند ہو گئی ہیں ۔ لاکھوں لوگوں کو علاقے سے ہجرت کرنا پڑی جس کے نتیجہ میں انہیں اربوں روپے کا نقصان اٹھاناپڑا مگر حکومت کی عدم توجہی سے یہ لوگ دو وقت کی روٹی سے تنگ ہیں۔ انہو ں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔دریں اثنا سینیٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ شمالی علاقہ جات میں چالیس ہزار اور کے پی کے کے دیگر علاقوں میں 21 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے مگر اس کے باوجود انڈونیشیا اور ملائیشیا سے مہنگا کوئلہ خرید کر بجلی بنائی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوا م کو بھی مہنگی بجلی خریدنا پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی پیداوار کے منصوبو ں کے لیے قومی اور ریاستی پالیسی بنائی جائے تاکہ حکومتوں کے آنے جانے سے بجلی کے پیداواری منصوبو ں پر اثر نہ پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ مقامی وسائل سے پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کیوں نہیں لگائے جارہے ۔ہمیں عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے دیرپا منصوبہ سازی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے خلاف ماضی کی طرح عالمی سازشیں شروع ہو گئی ہیں ہمیں بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے وہاں آبپاشی اور پینے کے صاف پانی کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔