کراچی(آئی این پی )امریکی شہریوں نے قوم کی بیٹی اور ممتازماہر تعلیم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی صدر باراک حسین اوباما اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے نام ایک کھلے خط میں امریکی شہریوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی ایک پاکستانی شہری ہیں جن کی امریکہ جیل میں قیدکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔اپنے وطن اور خاندان سے ہزاروں میل دور امریکی وفاقی جیل میں ایک عشرے سے قید ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی اور جسمانی بگڑتی ہوئی صحت اور رہائی کیلئے دل کی گہرائیوں سے فکر مند ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں، دونوں حکومتوں کیلئے اپنے خاندان کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کو ملانے کیلئے کئی مواقع میسر آئے تھے، مثال کے طور پر دو سال پہلے امریکی انٹیلی جنس کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے جب بلاجواز دن کے اجالے میں دو پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا تھا لیکن بدقسمتی سے اس وقت کے پاکستانی رہنما ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کی کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔امریکی شہری کی حیثیت سے ہم دل کی گہرائیوں سے اس انتہائی باصلاحیت MIT اور برانڈیز انعام یافتہ ماہر تعلیم کے لامتناہی مصائب پر کمی کے معاملے میں ہماری اپنی انتظامیہ،ماضی میں بش انتظامیہ اور اب اوباما انتظامیہ کی طرف سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
اعلی تعلیم یافتہ مسلم خواتین پر الزامات کی ایک سیریز اور مسلسل بدسلوکی اور ملالہ یوسفزئی کی حمایت کو عالم اسلام میں ایک جنگ کے طور پر سمجھا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں محض ایک پروپیگنڈہ کے آلے کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔عافیہ کے بچے دس سال سے اپنی ماں سے جدائی کا دکھ سہہ رہے ہیں اور عافیہ کی رہائی کیلئے اپیلوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے عام انتخابات میں ڈاکٹر صدیقی کی وطن واپسی کیلئے اقدامات کرنے کا کہا تھا۔ اس تاریخی موقع پر، جب دونوں حکومتیں آپس کے تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قانونی فریم ورک کے اندرر ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے نتیجے میں کہ اس المناک صورت میں ایک مثبت حل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا۔ پاکستان اور مسلم دنیا اور خطے بھر میں امریکہ کی ساکھ کو مثبت بنانے، اعتماد تعاون کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
عافیہ صدیقی بارے امریکہ سے بڑی خبر آگئی وزیر اعظم نواز شریف کو بھی خط لکھ ڈالا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں