بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

چارسدہ سے اغو ا ہونے والی بچی لاہور سے بازیاب ،تین سال کیا کام کروایاجاتارہا؟ مزید کتنی لڑکیاں اغواء کاروں کی قید میں ہیں،لرزہ خیز انکشافات

datetime 17  اگست‬‮  2016 |

چارسدہ(آئی این پی) ترنگزئی سے ساڑھے تین سال قبل انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں اغو ا ہونے والی دس سالہ معصوم لڑکی ثناء4 لاہور مناوہ سے بازیاب ہو کر دکھی والدین سے دوبارہ مل گئی۔ انسانی اسمگلروں نے جبری مشقت اور بھیک مانگنے پر مجبور کیا۔ انکار پر بد ترین تشدد اور گرم لوہے سے داغ دئیے جاتے تھے۔ درجنوں لڑکیاں اس وقت بھی انسانی سمگلر وں کے قید میں ہیں جن سے دھندہ بھی کیا جاتا ہے۔ بازیاب ہونے والی لڑکی ثناء4 اور پولیس افسران کا بیان۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ عمر زئی کے ایس ایچ او کاشف خان نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ 15فروری2013 کوبابا ئے کارگل کے نام سے مشہورلاہور کے بد نام زمانہ انسانی ا سمگلر و منشیات فروش کے بیٹی سعدیہ نے طے شدہ منصوبے کے تحت چارسدہ کے علاقہ ترنگزئی سے دس سالہ معصوم بچی ثنا ء4 دختر جان اللہ کونشہ اور چیز پلا کر بے ہوش کرکے پشاورپہنچایا اور بعد میں اپنے والد با با ئے کارگل کے پاس لاہور پہنچایا۔ بابائے کا رگل نے مغویہ ثناء4 کو ایک سال تک اپنے نجی قید خانے میں رکھنے کے بعد لاہور کے مضافاتی علاقے مناوہ میں افضل عرف بلو نامی شخص کو ڈھائی لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا۔ اس دوران مناوہ کے ایک کاروباری شخصیت چوہدری رانا قیوم کی اطلاع پر ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے پولیس افسران کی ایک ماہر ٹیم تشکیل دی جنہوں نے گزشتہ رات مناوہ میں افضل عرف بلوکے گھر پر چھاپہ مار کر مغوی بچی ثناء4 کو بازیاب کر ایا اور ملزم افضل عرف بلو کو گرفتار کر کے مناوہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ افضل عرف بلو مناوہ پولیس کی حراست میں ہے اور انکی خیبر پختون خوا منتقلی کیلئے محکمہ داخلہ کو درخواست دی گئی ہے۔ افضل عرف بلو کی خیبر پختون نخوا پولیس کو حوالہ کرنے کے بعد سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے اور بہت سے پر دہ نشینوں کے اصل چہرے عوام کے سامنے آئینگے۔ بازیاب ہونے والی لڑکی ثناء4 نے میڈیا کو بتایا کہ انسانی ا سمگلر اور منشیات فروش بابا ئے کارگل کا تعلق ضلع مانسہرہ سے ہے اور لاہور میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ پورا لاہور جانتا ہے کہ وہ خیبر پختون خوا سمیت دیگر صوبوں سے لڑکیوں کو اغواء4 کر کے پنجاب میں فروخت کرتا ہے اور اکثر لڑکیوں سے دھندہ بھی کرواتا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر منشیات فروشی کادھندہ بھی کرتا ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ افضل عرف بلو اور بابا ئے کارگل کے پاس اس وقت بھی کئی لڑکیاں قید میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افضل عرف بلو اسے زنجیروں سے باندھ کر رکھتا۔ جبری مشقت کرواتا انکار پر بدترین تشدد کا نشانہ بناتااور گرم لوہے سے داغ دیتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا ئے کارگل ایک خطر ناک اور سماج دشمن آدمی ہے۔ بڑے پیمانے پر منشیات اور انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ با زیاب ہونے والی معصوم لڑکی ثناء4 نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ بابائے کار گل کو فوری طور پر گرفتار اور افضل بلو کو قرار واقعی سزا دیکر نشان عبرت بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…