کوئٹہ( این این آئی )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر غلام احمد بلور نے یورپی یونین کی طرز پر پاکستان ،ایران،افغانستان،بھارت اور بنگلہ دیش پر مشتمل یونین کے قیام کی تجویز پیش کرتے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں بات کی مگر کبھی ہماری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیاگیا بلکہ ہمیشہ غدار قرار دیاگیا ،آج ہمیں جن حالات کا ہمیں سامنا ہے وہ مارشل لاء کی وجہ سے ہے سانحہ کوئٹہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی مذمت کیلئے میرے پاس الفاط نہیں ،اب تعزیت اور فاتحہ خوانی سے بڑھ کر اقدامات کرنا ہونگے، ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو اے این پی کے ایک وفد کے ہمراہ سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونیوالے صحافیوں شہزاد خان اور محمود خان کے روح کے ایصال ثواب کیلئے کوئٹہ پریس کلب میں فاتحہ خوانی کے موقع پر کیاوفد میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین افراسیاب خٹک سینیٹر باز محمد خان ایمل ولی خان ذاکر خان سینیٹر داؤد خان حاجی نظام الدین سمیت دیگر مرکزی وصوبائی رہنما شامل تھے ،جبکہ اس موقع پرکوئٹہ پریس کلب کے شہزادہ ذوالفقار،جنرل سیکرٹری خلیل احمد سمیت صحافیوں کی بڑ ی تعداد موجود تھی،غلام احمد بلور نے سانحہ کوئٹہ کو انتہائی دلخراش اور المناک قرا دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں اس سانحہ کی مذمت کرسکوں ہم خیبر پختونخوا میں اس صورتحال کا طویل عرصہ سے سامنا کرتے آئے ہیں صرف ہماری پارٹی کے 800سے زائد رہنما اور کارکن شہید ہوئے میں نے اپنے بھائی اور میاں افتخار حسین نے اپنے اکلوتے بیٹے کا جنازہ اٹھایا ہے اسفند یار ولی خان اور مجھ سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے ہوئے بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مرتے بھی ہیں لیکن ہماری قربانی کو کبھی نہیں ماناگیا ہمارے مرنے پر صرف تعزیت ہوتی ہے ہمارے ملک میں ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جو کارکردگیہونی چاہیے وہ نہیں ہے اگر سول ہسپتال کوئٹہ میں سیکورٹی کے موثر اقدامات ہوتے تو یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اور نہ ہی اتنے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوتے انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین جو خود یہاں نہیں آئے بلکہ ان کو لایاگیا انکی جگہ جگہ بے عزتی کی جارہی ہے کیونکہ وہ پشتون ہیں بار بار جمہوری حکومتوں کو ختم کرکے مارشل لاء لگایاگیاآج ہم جو کچھ بھگت رہیہیں وہ مارشل لاء کی وجہ سے ہے اگر مفاد پرست حکمران ملک کے بارے میں سوچتے تو آج اس کی یہ حالت نہ ہوتی اس وقت ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے ہم نے مل بیٹھ کر یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس صورتحال سے کس طرح نکل سکتے ہیں۔