منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پرانی عمارتوں میں لوگوں کو بھوت کیوں نظر آتے ہیں؟سائنس دانوں نے پول کھول دیا

datetime 14  اگست‬‮  2016 |

جنوں بھتوں کی کہانیاں صدیوں سے انسان کو خوفزدہ کرتی رہیں ہیں لیکن اب بالآخر سائنس نے آسیب زدہ ڈراﺅنی جگہوں کا راز فاش کردیا ہے۔امریکا کہ کلارکسن یونیورسٹی کے پروفیسر شین راجرز نے حال ہی میں ایک تحقیق کی ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ پرانی اور ڈراﺅنی عمارتوں میں لوگوں کو دل گھبرانے، دم گھٹنے، آوازیں سنائی دینے اور سائے نظر آنے کے واقعات واقعی سچ ہیں لیکن ان کی وجہ بھوت پریت نہیں بلکہ ان جگہوں کے ماحول کی آلودگی اور خصوصاً ایک خاص قسم کی پھپھوندی ہے۔ پروفیسر راجرز کہتے ہیں کہ عرصے سے بند پڑی عمارتوں یا گھنے درختوں سے بھری نمی سے بھرپور جگہوں پر زہریلی پھپھوندی کی افزائش ہوتی ہے جس کے اثرات ہوا میں شامل ہوکر انسان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔اس آدمی نے مفت میں سیر و تفریح کا پیکج جیتا لیکن پھر بھی اداس ہے ، کیوں ؟ ان جگہوں کا آلودہ اور گھٹن زدہ ماحول نہ صرف جسمانی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ دل کی دھڑکن تیز ہونے، سر چکرانے، موڈ میں اچانک تبدیلی، بلاوجہ غصہ آنے اور سمعی وبصری مسائل کا سبب بھی بنتا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گویا کوئی غیر مرئی مخلوق ہم پر اثر انداز ہورہی ہے۔ ایسے ماحول میں بعض لوگ عجیب و غریب مخلوقات نظر آنے یا ڈراﺅنی آوازیں سننے کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جو درحقیقت عصبی نظام پر ماحول کے اثرات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
پروفیسر راجرز کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں درجنوں ایسی جگہوں پر تجربات کرچکے ہیں کہ جن کے بارے میں کئی دہائیوں سے ڈراﺅنی کہانیاں مشہور تھیں اور ان تمام جگہوں پر ماحولیاتی عوامل ہی سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں خود بھی ان جگہوں پر خوف، گھٹن اور آوازیں سنائی دینے جیسی کیفیات محسوس ہوئی ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ اس کا سبب کوئی نظر نہ آنے والی مخلوق نہیں بلکہ ان جگہوں کا مخصوص ماحول ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ کو بھی کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہے تو گھبرانے کی بجائے متاثرہ جگہ کی مکمل اور بہترین صفائی مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرسکتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…