بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

دل کے مریضوں کیلئے بڑی خوشخبری، اب اوپن ہارٹ سرجری کی بھی ضرورت نہیں ۔۔ ماہرین نے زبردست تجربہ کر ڈالا

datetime 13  اگست‬‮  2016 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر ایک خاص آلے سے دل کی ناکارہ شریان درست کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جس سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم خرچ میں والوو کی پیچیدہ مرمت بخوبی انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس آپریشن کے لیے سب سے پہلے دل کا اسکین کیا گیا تاکہ والو کی تمام تفصیلات سامنے آجائیں اور یہ سارا منظر ٹی وی پر دیکھا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مرکز سولڈرنگ گن نما 15 سینٹی میٹر لمبا ایک آلہ ہے جس کی نوک پر گور ٹیکس تار لگے ہیں جو شریان کے فلیپ پر جاکر اس کی مرمت کرتے ہیں۔
اس کی سلاخ کو سینے میں ایک سوراخ کرکے دل تک پہنچایا جاتا ہے اور مریض کو ایک عام انیستھیسیا دیا جاتا ہے۔ آپریشن کے ذریعے میٹرل شریان کو قابلِ عمل بنایا گیا۔ اس شریان کی خرابی کی کوئی جسمانی کیفیت نہیں ہوتی مگر بعض حالات میں سینے میں درد ضرور ہوتا ہے اور سنگین صورتحال میں سانس اکھڑتی اور مریض ہلاک ہوجاتا ہے۔ اوپن ہارٹ سرجری میں اس شریان کے متاثرہ تاروں کو گور ٹیکس تاروں سے جوڑا جاتا ہے مگر اس کے لیے سینے اور پسلیوں کو کاٹا جاتا ہے۔ ہارپون آلے کو اس مقام پر ڈال کر اس کی مرمت کی جاتی ہے لیکن اس کے لیے دل کو روکنا پڑتا ہے اور اس دل و پھیپھڑے کی ایک خاص مشین پر رکھا جاتا ہے :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…