اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

کھانا وقت پر نا کھانے کے ایسے نقصانات جن کو نظر انداز کر کے آپ خطرناک بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں

datetime 11  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ نے کبھی رات کا کھانا کسی کام میں پھنسے ہونے کی وجہ سے کافی دیر کے لیے ملتوی کردیا؟ یا زیادہ دیر تک سونے کی وجہ سے ناشتے کو چھوڑ دیا؟ کیا دیر سے کھانا یا نہ کھانا کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں؟ اگر تو آپ ایسا سوچتے ہیں تو درحقیقت متعدد امراض کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات میں غیرمعمولی تبدیلیاں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض کے خطرات بڑھاتی ہیں چاہے آپ کم کیلوریز کو ہی جسم کا حصہ کیوں نہ بنائیں۔ تحقیق کے مطابق معمول کے اوقات میں خوراک کا استعمال کرنے والے افراد جسمانی لحاظ سے موٹاپے کے شکار نہیں ہوتے تاہم دیر سے یا چھوڑ دیین کے عادی افراد موٹاپے کے شکار ہوجاتے ہیں۔ محققین کا تو کہنا تھا کہ اگرچہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی یا ان سے منہ موڑنا بظاہر کسی قسم کے نقصان کا باعث نظر نہیں آتے مگر اس کے نتیجے میں میٹابولزم اور جسمانی گھرڑی کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کی جسمانی گھڑی 24 گھنٹوں کے اندر مخصوص اوقات میں بھوک، ہضم، کولیسٹرول، گلوکوز اور چربی کے میٹابولزم کی عادی ہوتی ہے تاہم کوئی خاص وقت نہ ہونا اس گھڑی کے افعال کو متاثر کتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مداخلت موٹاپے اور دیگر طبی خطرات کا باعث بنتی ہے۔ تو محققین نے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ ایک ہی وقت کھانے کی عادت پر قائم رہنا صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیوٹریشن سوسائٹی میں شائع ہوئی :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…