بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

کھانا وقت پر نا کھانے کے ایسے نقصانات جن کو نظر انداز کر کے آپ خطرناک بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں

datetime 11  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ نے کبھی رات کا کھانا کسی کام میں پھنسے ہونے کی وجہ سے کافی دیر کے لیے ملتوی کردیا؟ یا زیادہ دیر تک سونے کی وجہ سے ناشتے کو چھوڑ دیا؟ کیا دیر سے کھانا یا نہ کھانا کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں؟ اگر تو آپ ایسا سوچتے ہیں تو درحقیقت متعدد امراض کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات میں غیرمعمولی تبدیلیاں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض کے خطرات بڑھاتی ہیں چاہے آپ کم کیلوریز کو ہی جسم کا حصہ کیوں نہ بنائیں۔ تحقیق کے مطابق معمول کے اوقات میں خوراک کا استعمال کرنے والے افراد جسمانی لحاظ سے موٹاپے کے شکار نہیں ہوتے تاہم دیر سے یا چھوڑ دیین کے عادی افراد موٹاپے کے شکار ہوجاتے ہیں۔ محققین کا تو کہنا تھا کہ اگرچہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی یا ان سے منہ موڑنا بظاہر کسی قسم کے نقصان کا باعث نظر نہیں آتے مگر اس کے نتیجے میں میٹابولزم اور جسمانی گھرڑی کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کی جسمانی گھڑی 24 گھنٹوں کے اندر مخصوص اوقات میں بھوک، ہضم، کولیسٹرول، گلوکوز اور چربی کے میٹابولزم کی عادی ہوتی ہے تاہم کوئی خاص وقت نہ ہونا اس گھڑی کے افعال کو متاثر کتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مداخلت موٹاپے اور دیگر طبی خطرات کا باعث بنتی ہے۔ تو محققین نے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ ایک ہی وقت کھانے کی عادت پر قائم رہنا صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیوٹریشن سوسائٹی میں شائع ہوئی :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…