بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

آپ کے خون میں بھی ایک سپر مین موجود ہے

datetime 11  اگست‬‮  2016 |

سوئٹزرلینڈ (مانیٹرنگ ڈیسک)یونیورسٹی آف جنیوا کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر خون میں ’’پلیٹلیٹس‘‘ کہلانے والے خلیے موجود نہ ہوں تو انسانی جسم مختلف وائرسوں کے حملوں سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ اب تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب کوئی وائرس یا بیکٹیریا انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے تو خون میں موجود سفید خلیے (وائٹ بلڈ سیلز) بڑی تیزی سے متاثرہ مقام کی طرف بڑھتے اور حملہ آور وائرس یا بیکٹیریا کو ناکارہ بنادیتے ہیں لیکن نئی تحقیق کے نتائج اس سے بالکل مختلف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی رگوں اور خون میں شامل چھوٹے چھوٹے خلیوں ’’پلیٹلیٹس‘‘ سے خارج ہونے والے ایک پروٹین کی بدولت انسانی جسم کا قدرتی دفاعی نظام حرکت میں آتا ہے اور سفید خلیات کو ہوشیار ہوجانے کا پیغام پہنچاتا ہے۔
خاص طور پر کسی وائرس کے حملے پر ’’سی سی این ون‘‘ کہلانے والا یہ پروٹین زیادہ مقدار میں پلیٹلیٹس سے خارج ہوکر سفید خلیوں تک پہنچتا ہے اور انہیں متاثرہ مقام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ پروٹین متاثرہ مقام تک سفید خلیوں کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ یعنی یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سی سی این ون انسانی جسم کی حفاظت کرنے والے ’’فوجیوں‘‘ (خون کے سرخ خلیوں) کو بھرتی کرنے اور محاذ پر بھیجنے کا کام کرتا ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس نئی دریافت سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بطورِ خاص وائرسوں کے خلاف انسانی جسم کس طرح سے ردِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور پلیٹلیٹس کی مدد سے اس ردِعمل کو کس طرح مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ انسانی خون کے ہر مائیکرولیٹر میں ایک لاکھ 50 ہزار سے لے کر 3 لاکھ تک پلیٹلیٹس موجود ہوسکتے ہیں :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…