اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

آپ کے خون میں بھی ایک سپر مین موجود ہے

datetime 11  اگست‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سوئٹزرلینڈ (مانیٹرنگ ڈیسک)یونیورسٹی آف جنیوا کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر خون میں ’’پلیٹلیٹس‘‘ کہلانے والے خلیے موجود نہ ہوں تو انسانی جسم مختلف وائرسوں کے حملوں سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ اب تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب کوئی وائرس یا بیکٹیریا انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے تو خون میں موجود سفید خلیے (وائٹ بلڈ سیلز) بڑی تیزی سے متاثرہ مقام کی طرف بڑھتے اور حملہ آور وائرس یا بیکٹیریا کو ناکارہ بنادیتے ہیں لیکن نئی تحقیق کے نتائج اس سے بالکل مختلف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی رگوں اور خون میں شامل چھوٹے چھوٹے خلیوں ’’پلیٹلیٹس‘‘ سے خارج ہونے والے ایک پروٹین کی بدولت انسانی جسم کا قدرتی دفاعی نظام حرکت میں آتا ہے اور سفید خلیات کو ہوشیار ہوجانے کا پیغام پہنچاتا ہے۔
خاص طور پر کسی وائرس کے حملے پر ’’سی سی این ون‘‘ کہلانے والا یہ پروٹین زیادہ مقدار میں پلیٹلیٹس سے خارج ہوکر سفید خلیوں تک پہنچتا ہے اور انہیں متاثرہ مقام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ پروٹین متاثرہ مقام تک سفید خلیوں کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ یعنی یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سی سی این ون انسانی جسم کی حفاظت کرنے والے ’’فوجیوں‘‘ (خون کے سرخ خلیوں) کو بھرتی کرنے اور محاذ پر بھیجنے کا کام کرتا ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس نئی دریافت سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بطورِ خاص وائرسوں کے خلاف انسانی جسم کس طرح سے ردِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور پلیٹلیٹس کی مدد سے اس ردِعمل کو کس طرح مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ انسانی خون کے ہر مائیکرولیٹر میں ایک لاکھ 50 ہزار سے لے کر 3 لاکھ تک پلیٹلیٹس موجود ہوسکتے ہیں :۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…