بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانے والی تصاویر ،حکومت نے وضاحت جاری کردی

datetime 10  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد/لاہور( این این آئی )سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانے والی تصاویر کی حکومت نے وضاحت کردی،سرکاری ذرائع کے مطابق تصویریں نو سالہ انڈونیشین بچی کی ہیں جسے 2015ء میں اغوا ء اورزیادتی کے بعد لاش کو ٹیپ سے لپیٹ کر ڈبے میں بند کرکے کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بچوں کی بڑھتی ہوئی اغوا ء کی وارداتوں نے والدین کو پریشان کردیا ہے اور اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کی خبروں اور تصاویر نے سنسنی پھیلادی جس کے بعد ایف آئی اے حکام بھی ایکشن میں آ گئے ۔تاہم سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ان تصاویر کی حقیقت سامنے آ گئی ہے ۔ یہ تصاویر نو سالہ انڈونیشین بچی پتری نور فوزیہ کی ہیں جسے گزشتہ سال اکتوبر میں زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ سفاک قاتلوں نے بچی کی لاش ٹیپ سے لپیٹ کر ڈبے میں بند کرکے کچرے میں پھینک دی تھی۔ ان تصاویر کو پاکستانی بچوں سے جوڑا گیا اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں جس کا وزارت داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔قبل ازیں ایک نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے نے اغوا ء کئے گئے بچوں کی تھائی لینڈ اسمگلنگ کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق اغوا ء کئے گئے چھ بچوں کو جسمانی اعضا ء کی فروخت کیلئے تھائی لینڈ اسمگلنگ کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنادیا گیا تھا ۔ان بچوں کے منہ پر ٹیپ اور ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویرجاری ہونے کے بعد آیف آئی اے کو تحقیقات کی ہدایت کی تھی جس پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ یف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کی اسمگلنگ سے متعلق کوئی بھی شخص معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…