منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

کیا واقعی خلائی مخلوق کا وجود ہے؟ یہ خبر پڑھ کر آ پ بہت کچھ سوچنے پرمجبور ہو جائیں گے

datetime 8  اگست‬‮  2016 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہماری زمین سے 1480نوری سال کے فاصلے پر ہماری ہی کہکشاں کا ایک ستارہ ہے جسے کے آئی سی 8462852 کا نام دیا گیا ہے۔ کئی سال قبل اس سیارے کی روشنی میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہونے لگیں جس پر خلائی مخلوق کی موجودگی کے دعویداروں نے اس ستارے پر خلائی مخلوق کے موجود ہونے کا دعویٰ کر دیا اور کہا کہ وہ اس ستارے پر تعمیرات کر رہے ہیں جس کے باعث اس کی تہہ ان کی بنائی ہوئی تعمیرات میں چھپتی جا رہی ہے اور اس کی روشنی ماند پڑتی جا رہی ہے۔ بہت عرصہ تک سائنسدان اس مفروضے کو مسترد کرتے رہے تاہم انہوں نے بھی اس ستارے پر کسی پراسرار وجود کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ناسا کی کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ(Kepler Space Telescope)نے اس ستارے کے مدار میں چار سال گزارے ہیں۔ اس دوران سائنسدان اس کی روشنی میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔ اب ان سائنسدانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس کی روشنی میں حیران کن تیزی کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس مشن کی نگرانی کرنے والے کارنیگی انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں بین مونٹنٹ اور جوشوا سائمن کا کہنا ہے کہ 146146ہم طویل عرصے سے اپنے آپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ یہ سب کچھ حقیقی نہیں ہے تاہم ہم اس میں ناکام ہو چکے ہیں۔145145 ان سائنسدانوں نے کے آئی سی 8462852
اور اس کے قریب واقع193ستاروں اور دوسری کہکشاؤں میں موجود اس سے مشابہت رکھنے والے 255ستاروں کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مشابہت رکھنے والے دوسری کہکشاؤں کے ستاروں میں ایسی تبدیلیاں رونما نہیں ہو رہی جو کے آئی سی 8462852 میں ہو رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ستارے پر کوئی پراسرار کام ضرور ہو رہا ہے۔اس کی پراسراریت کو دیکھ کر یہ یقین نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس پر خلائی مخلوق موجود ہے تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس ستارے پر کوئی بالکل نیا خلائی عمل وقوع پذیرہو رہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…