بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

رینجرز کا مسئلہ حل ہوگیا ،میں نہیں میرے کام بولیں گے ،نئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اہم اعلان کردیا

datetime 5  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سندھ کی بہتری کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ رینجرز کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا ہے ٗمیں نہیں میرے کام بولیں گے ۔جمعہ کو اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ سندھ میری وزیر اعظم سے پہلی ملاقات ہوئی ہے جس میں ان کی صحت کے حوالے سے دریافت کیا اور صوبوں کو درپیش دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مسائل کے حل کے لئے اپنے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مضبوط روابط ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن کے حل کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ عوام کی خدمت اولین ترجیح ہے سندھ میں امن وامان کی صورت حال کو مزید بہتر کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ رینجرز کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل بھی میڈیا کے ساتھ کم گفتگو کرتا تھا اب میں نہیں میرے کام بولیں گے اور میں کوشیش کروں گا کہ میڈیا کے ساتھ رابطے میں رہوں۔انہوں نے کہا کہ جو کام بہتر نہ ہوں ہماری بہتری کیلئے اسے ضرور شائع کریں اور بہتر کام کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کریں تاکہ میری ٹیم کی حوصلہ افزائی ہو سکے انہوں نے کہا کہ اپنی قیادت اور سندھ کی عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے پر اعتماد کیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں اپنی جماعت کی پالیسی اور قیادت کی مشاورت اور رہنمائی کے بعد فیصلے کروں گا ۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت حیسکو اور سیپکوکے ذمے 24 ارب کے واجبات دینے کو تیار ہے تاہم سندھ حکومت کے پہلے دئیے گئے 10 ارب روپے پہ الیکٹرسٹی ڈیوٹی اسے ادا کی جائے جو چار ارب روپے بنتی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کے لیکٹرک،پی ایس او،کراچی پورٹ ٹرسٹ سمیت وفاقی اداروں کے بورڈز میں سندھ کو نمائندگی دینے کا بھی مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو شکایت کی کہ جون میں ایف بی آر نے سندھ حکومت کے اکاؤنٹس سے ٹیکس کی مد میں 7 ارب روپے کی کٹوتی کر لی حالانکہ یہ ترقیاتی منصوبے نہیں تھے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیٹی بندر منصوبے کو سی پیک میں شامل کرایا جائے اور سندھ میں بند کئے جانے والے ریلوے اسٹاپ بحال کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…