بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

موٹاپے کا ایک ایسا خطرناک نقصان جو آپ کو کسی نہیں بتایا ہوگا

datetime 5  اگست‬‮  2016 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے اْن کا دماغ عمر کے مقابلے میں ’دس سال زیادہ بوڑھا‘ ہوتا ہے۔انسانی دماغ میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ معلومات کی رسائی والے حصے میں قدرتی طور پر سفید مواد ختم ہونے لگتا ہے لیکن کیمبرج یونیورسٹی کی ٹیم کا کہنا ہے کہ دماغ میں اس مواد کا ختم ہونا اضافی وزن سے بڑھ جاتا ہے۔اسی وجہ سے زیادہ وزن والے 50 سالہ شخص کا دماغ ایک 60 سالہ پتلے شخص کے برابر ہوتا ہے۔محقیقن کا کہنا ہے کہ اس سے یہ پتہ چلا ہے کہ کیسے اضافی وزن دماغ کو متاثر کرتا ہے۔کیمبرج سینیٹر فار ایجن اینڈ نیورو سائنسس نے اس تحقیق کے دوران 20 سے 87 سال کی عمر والے 473 افراد کا معائنہ کیا اور ان افراد کو دو کیٹیگری موٹے اور پتلے میں تقسیم کیا گیا۔طبی جریدے جرنل آف نیورو بیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق موٹے اور پتلے افراد کے دماغ میں سفید مواد کا حجم مختلف ہے۔زیادہ وزن کے حامل افراد میں اپنے ہم عمر پتلے افراد کے مقابلے میں سفید مواد کم ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق درمیانی عمر والے افراد سے لے بوڑھے افراد میں پایا جاتا ہے۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس عمر کے دوران انسانی دماغ کو زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ موٹاپے سے دماغ کی بظاہر ساخت میں تبدیلی تو نوٹ کی گئی لیکن اس سے معلومات یا سمجھ بوجھ پر کوئی فرق محسوس نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ایسے افراد پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معائنہ کیا جائے کہ ڈیمنشیا جیسے امراض کیسے شروع ہوتے ہیں۔محقق ڈاکٹر لیزا رونن کہتی ہیں کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ موٹاپا دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے یا نہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موٹاپا بہت پیچدہ ہے ہم اس کے بہت سے مضر اثرات سے واقف ہیں لیکن اس سے دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے اور دماغ موٹاپے کو کیسے لیتا ہے ہم اسی کا کو جاننے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ریسرچر پروفیسر سڈل فاروقی کا کہنا ہے کہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دماغ میں وزن بڑھنے سے ہونے والی تبدیلی یا وزن میں کمی کرنے سے صحیح ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے ایک نقطعہ ہے کہ وزن، صحت ورزش کے انسانی دماغ اور یاداشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…